روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 637 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 637

۔جو چاہے کہہ۔کیونکہ تجھے علم ہی نہیں کہ اس کے دروازہ پر رہنے والوں کا کتنا بڑا مرتبہ ہے۔میں تو ہر ظلم اٹھانے کو تیار ہوں خواہ قتل ہو جاؤں اس لئے کہ ہر عمل اور کام کی جزا ضرور ملتی ہے۔تو اپنی دونوں آنکھیں صاف کرتا کہ میرا چہرہ دیکھ سکے ورنہ تیری نظر میں تو ہر انصاف بھی ظلم دکھائی دے گا۔میری اس بات میں وہ فضول گو عیب نکالتا ہے جو ہمارے دین کی راہ ورسم سے بے خبر ہے۔ایسا ملہمِ صادق کہاں ہے کہ جس پر ہماری حقیقت پردہِء حجاب میں سے بھی ظاہر ہو۔جاگنے کا وقت آگیا مگر ابھی تو نیند میں ہے سن کہ ہر پچھلی رات کو فرشتہ یہی آواز دیتا ہے۔علم وفضل اور کرامت کے زور سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکتا کہاں ہے وہ شخص جو علم وفضل وکرامت کا مدعی ہے۔تو ہزاروں سکے دکھائے پھر بھی چمک دمک اور کھرا ہونے میں ہمارے سکہ کی برابری نہیں کر سکتا۔وہ تائید یافتہ شخص جو مسیحادم اور مہدی وقت ہے اس کی شان کو اتقیا میں سے کوئی نہیں پہنچ سکتا۔یہ جہان ایک غنچہ کی طرح بند تھا میں (اس کے لئے) اُن برکتوں کو لے کر آیا ہوں جو باد صبا لایا کرتی ہے۔اس زمانہ میں کس قدر فتنے پیدا ہو گئے ہیں اور کونسا راستہ بدی کا ہے جو مخفی ہے۔ناممکن ہے کہ تو ان فتنوں سے بچ سکے سوائے اس کے کہ تو میری پیروی کرے۔وہ شخص جسے بالِ ہُمانے بھی فائدہ نہ دیا ہو اسے چاہیے کہ د و دن ہمارے زیر سایہ رہے۔خدا کی طرف سے میری حکومت ثابت ہو چکی ہے کیونکہ میں اس خدا کا مسیح ہوں جو آسمان پر ہے صفحہ ۱۳۴۔مجھے اس خطاب کا ہرگز کوئی شوق نہ تھا لیکن میرا کیا قصور ہے جب کہ خد اکی طرف سے ایسا ہی حکم ہے۔میں کسی زمینی تاج وتخت کی خواہش نہیں رکھتا نہ میرے دل میں کسی بادشاہی تاج کا شوق ہے۔میرے لئے یہی کافی ہے کہ آسمانی بادشاہت ہاتھ آجائے کیونکہ زمینی ملکوں اور جائدادوں کو بقا نہیں ہے۔جبکہ خدا نے مجھے روزِ اوّل سے آسمان کے حوالہ کر دیا ہے تو اب دنیاوی پونجی پر میری نظر کیونکر پڑ سکتی ہے۔جب کہ میرا مسکن وماوی ّجنت الفردوس ہے تو پھر میرا ٹھکانہ اس گڑھے کی کوڑی میں کیوں ہو۔اگر سارا جہان بھی میری تحقیر کرے تو مجھے کیا غم کیونکہ میرے ساتھ وہ قادر خدا ہے جو بڑی بزرگیوں والا ہے۔میں ہی مسیح وقت ہوں اور میں ہی کلیم خدا ہوں، میں ہی وہ محمد اور احمد ہوں جو مجتبیٰ ہے