روئداد جلسۂ دعا — Page 601
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۰۱ رونداد جلسه دعا کہاں سے لائے اور کیونکر اپنے حرفہ کی تکمیل کرے اسی طرح درزی کو اگر کپڑا نہ ملے (۹) تو کیونکر سیئے۔ اسی طرح ہر متنفس کا حال ہے طبیب کیسا ہی حاذق اور عالم ہولیکن اگر ادویہ نہ ہوں تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ بڑی سوچ اور فکر سے ایک نسخہ لکھ کر دے گالیکن بازار میں دوا نہ ملے تو کیا کرے گا۔ کس قدر خدا کا فضل ہے کہ ایک طرف تو اُس نے علم دیا ہے اور دوسری طرف نباتات، جمادات ، حیوانات جو مریضوں کے مناسب حال تھے پیدا کر دیئے ہیں اور اُن میں قسم قسم کے خواص رکھے ہیں جو ہر زمانہ میں نااندیشیدہ ضروریات کے کام آ سکتے ہیں۔ غرض خدا تعالیٰ نے کوئی چیز بھی غیر مفید پیدا نہیں کی۔ کتب طب میں لکھا ہے کہ اگر کسی کا پیشاب بند ہو جائے تو بعض وقت جوں کو احلیل میں دینے سے پیشاب جاری ہو جاتا ہے۔ انسان ان اشیاء کی مدد سے کہاں تک فائدہ اُٹھاتا ہے کوئی اندازہ کر سکتا ہے ہر گز نہیں بلکہ کسی کے تصور میں نہیں آ سکتا پھر چوتھی بات پاداش محنت ہے اس کے لئے بھی خدا کا فضل درکار ہے مثلاً انسان کس قدر محنت و مشقت سے زراعت کرتا ہے اگر خدا تعالیٰ کی مدد اُس کے ساتھ نہ ہوتو کیونکر اپنے گھر میں غلہ لا سکے۔ اُسی کے فضل وکرم سے اپنے وقت پر ہر ایک چیز ہوتی ہے۔ چنانچہ اب قریب تھا کہ اس خشک سالی میں لوگ ہلاک ہو جاتے مگر خدا نے اپنے فضل سے بارش کر دی اور بہت سے حصہ مخلوق کو سنبھال لیا۔ غرض اولاً بالذات اکمل اور اعلیٰ طور سے خدا تعالیٰ ہی مستحق تعریف ہے اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا ذاتی طور پر کوئی بھی استحقاق نہیں ۔ اگر کسی دوسرے کو استحقاق تعریف کا ہے تو صرف طفیلی طور پر ہے۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کا رحم ہے کہ باوجود یکہ وہ وحدہ