پُرانی تحریریں — Page 50
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶ پرانی تحریریں زمانہ میں مکتی بھی شروع ہو گئی اسی صورت میں تناسخ اور مکت پانے کا ابتدا ہونا روحوں کے انادی ہونے میں کچھ خلل نہیں ڈال سکتا۔ سُبْحَانَ اللہ کیا اچھا جواب ہے اس سے معلوم ہوا کہ اب آریہ سماج والے مگر دقیق میں بہت ترقی کر گئے ہیں تبھی تو ایسے ایسے عمدہ جواب دینے لگے بھلا صاحب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ تمام ارواح قبل تناسخ اور مکت پانے کے دکھوں دردوں میں مبتلا تھیں یا راحت میں اور آسائش میں۔ اگر دکھوں میں مبتلا تھے تو کس عمل کی شامت سے اور اگر راحت میں تھے تو کس کار خیر کی پاداش میں علاوہ اس کے اگر پہلے مکت پانے سے خوشحال اور مسرور تھے تو پھر ان کو مکت کا طلب کرنا تحصیل حاصل تھا جس سے ماننا پڑا کہ موجود نہ تھے اگر یہ کہو کہ اگر چہ پہلے ہی آرام میں تھے پر ان کو گر دش تناسخ میں اسی واسطے ڈالا گیا کہ خدا کی شناخت حاصل کرے تو جواب ظاہر ہے کہ جبکہ روحوں کو غیر متناہی مدت میں خدا کے ساتھ رہ کر اور اس کا ہم صحبت ہو کر بلکہ دائمی شریک بن کر خدا کی شناخت حاصل نہ ہوئی تو پھر کیڑے مکوڑے بن کر کیا ذخیرہ معارف کا اکٹھا کر سکتے تھے بلکہ نا کردہ گناہ طرح طرح کی تکلیفات جنم مرن میں ڈالنا بر خلاف اصول آریہ سماج کے ہے اور اسی سے تو حضرت تناسخ صاحب جزیرہ عدم کی طرف سر مارتے ہیں علاوہ اس کے تعطل ارواح بھی بموجب اصول آریہ سماج کے قطعاً نا جائز ہے پھر غیر متنا ہی تعطل کس طرح جائز ہو پس ایسا خیال کہ ارواح انا دی ہیں سراسر باطل۔ پھر مدرس صاحب لکھتے ہیں کہ بار بار پیدا ہونا روحوں کا غیر ممکن ہے بلکہ جتنی روح پیدا ہو سکتی ہے وہ قدیم سے موجود ہیں اور آگے کو قدرت خالقیت کی مفقود ہے یہ ایسی تقریر ہے کہ جس کو ہم دوسرے لفظوں