پُرانی تحریریں — Page 49
روحانی خزائن جلد ۲ پرانی تحریریں اب اعادہ کرنا ضروری نہیں لیکن ایک نئی دلیل جس سے روحوں کے انادی ہونے کے ابطال میں قطعی فیصلہ ہو گیا بلکہ فیصلہ کیا قلعی ہی کھل گئی اس مضمون میں بھی درج کی جاتی ہے اور تمہید اس دلیل کی یہ ہے کہ آریہ سماج والے بموجب اصول مسلمہ اپنے کے خود اقرار کر چکے ہیں کہ ارواح موجودہ سوا چار ارب زمانہ سے زیادہ نہیں جتنے ہیں اور جسقدر ہیں اس زمانہ سے شروع ہوتے ہیں اور اس کے اندر اندر ختم ہو جاتے ہیں اور پھر یہ بھی اقرار ہے کہ فرودگاه تمام روحوں کا یہی کرہ زمین معلوم ومحدود ہے اور اس اسکول میں سب ارواح تعلیم پاتے اور علم سیکھتے ہیں بلکہ جتنے ارواح آج تک عہدہ ملتی کا پا چکے ہیں وہ سب اس چھوٹے سے مدرسہ کے پاس یافتہ ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ان اقرارات سے صاف ظاہر ہو گیا کہ ارواح موجودہ بے انت نہیں ہیں بلکہ بوجہ محدود زمانی و مکانی ہونے کے کسی اندازہ مقرری میں حصہ کی گئی ہیں پس جبکہ یہ حال ہے تو اب ناظرین خود غور فرما دیں کہ اس صورت میں یہ قول مدرس صاحب کا که ارواح موجودہ ضرور انادی ہیں کس طرح درست ہو سکتا ہے کیونکہ جس حالت میں ۴۰ ارواح بے انت نہ ہوئے بلکہ کسی خاص تعداد میں محصور مظہرے سو بالضرورت اس کے تناسخ اور مکت پانے کا کوئی ابتداء ماننا پڑا یعنی وہ زمانہ کہ جس میں پہلے پہل کسی روح نے کوئی جنم لیا تھا یا عہدہ مکتی کا پایا تھا پس جب ابتداء تناسخ اور مکت پانے کا اقرار دیا گیا تو ارواح انادی نہ رہے کیونکہ انا دی وہ چیز ہے کہ جس کا کوئی ابتداء نہ ہو پس ثابت ہو گیا کہ انادی نہیں اور یہی مطلب تھا (اب حضرت کیا خبر ہے اب یہ بھی آپ روحوں کو انادی کہتے رہو گے ) بعض صاحبوں نے یہ جواب دیا ہے کہ ممکن ہے کہ پہلے ایک غیر متناہی مدت سے تمام ارواح حالت تعطل اور بریکاری میں پڑے رہے ہوں پھر پیچھے سے ایشر کو یہ خیال آیا کہ فارغ رہنا ان روحوں کا اچھا نہیں پس اس دن سے ایشور کے دل میں یہ خیال اٹھا تو سب روحوں کو انسان اور حیوان اور گدھے گھوڑے بنا کر جنم مرن کی مصیبت میں ڈال دیا اور