پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 548

پُرانی تحریریں — Page 48

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶ پرانی تحریریں موجودہ ( جو بقول ان کے قدیم سے موجود ہیں ) لا تعداد اور غیر متناہی ہوں کیونکہ جب علت تامہ بے انت ہے تو معلول بھی بے انت ہونا چاہئے ورنہ لازم آوے گا کہ موثر کامل کی تاثیر ناقص ہو حالانکہ بے انت ہونا ارواح موجودہ کا ہماری چودہ دلائل سے باطل ہو چکا ہے جس کو سوامی دیانند صاحب بھی لاچار اور لاجواب ہو کر قبول کر چکے۔ پس جبکہ (۳۹) روحوں کے بے انت ہونے کے بارے میں یہ دلیل جھوٹی نکلی تو ان کے انادی ہونے میں کب کچی ہوسکتی ہے۔ علاوہ اس کے مشاہدہ افعال اللہ کا بھی اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ قانون قدرتی کے ہر روزہ تجربہ اور ملاحظہ نے ہم پر ثابت کر دیا ہے کہ افعال الہی جو مر ہوں باوقات و موقت بالاز منہ ہیں اور اوقات مختلفہ میں ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں کبھی دھوپ ہے کبھی بادل ہے کبھی رات ہے کبھی دن ہے کبھی غم ہے اور کبھی شادی ایک وقت وہ تھا جو ہم معدوم تھے اور اب یہ وقت ہے کہ ہم زندہ زمین پر موجود ہیں اور پھر وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ ہم نہیں ہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ بارادہ الہی ہو رہا ہے اور ان سب امور اور عوارض کے وہی ارادہ از لی علت تامہ ہے پس اگر بقول مدرس صاحب کے تصور کیا جاوے کہ موافقت خالق اور مخلوق کی واجب ہے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ تمام حادثات جو وقتا فوقتا ظہور پکڑتے ہیں ہمیشہ ایک حالت پر بنے رہیں اور دنیا میں ایک ہی دستور رہے لیکن ہر عاقل جانتا ہے جو عالم متغیر ہے اور تمام اجزا حوادث کے آن واحد میں جمع نہیں ہو سکتے اور کسی مخلوق کو ایک وضع پر قرار نہیں پس اس سے یہی ثابت ہوا کہ دلائل پیش کرده مدرس صاحب بھی نا معتبر اور سراسر غلط ہیں ۔ سوا اس کے جب دوسرے شق کی طرف غور کی جاتی ہے کہ آیا روحوں کے انادی ہونے کی بابت کوئی دلیل پختہ ہے یا نہیں تو ایسے دلائل پختہ اور یقینی ملتے ہیں جو انسان کو بجز مانے ان کے کے کچھ بن نہیں پڑتا اس بارے میں ہم مضمون سابقہ میں بہت کچھ لکھ چکے ہیں