پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 548

پُرانی تحریریں — Page 47

روحانی خزائن جلد ۲ پرانی تحریریں منتقی گردیال صاحب مدرس مڈل اسکول چنیوٹ کے استفسار (۳) مندرجہ پر چہ آفتاب ۶ ارمئی ۱۸۷۸ء کا ضروری جواب منشی گردیال صاحب نے بعض خیالات اپنی بابت انادی ہونے روحوں کے پیش کر کے ہم سے جواب اس کا بکمال اصرار طلب کیا ہے سوا گر چہ ہم مضمون سابق کے خاتمہ میں تحریر کر چکے ہیں کہ آئندہ اس بحث پر بلا ضرورت نہیں لکھیں گے لیکن چونکہ منشی صاحب ممدوح نے بمراد ازالہ شکوک اپنے کے بہت التجا ظاہر کی ہے اور ہمارے نزدیک بھی رفع کرنا شبہات صاحب موصوف کا حقیقت میں ایک عمدہ تحقیق علمی ہے جو فائدہ عام سے خالی نہیں۔ لہذا ہم اس جواب کو بوجہ ضروری اور لابدی اور مفید عام ہونے کے بعد استثناء شمار کر کے برعایت اختصار ذیل میں درج کرتے ہیں۔ اول خیال منشی صاحب کا جس کو وہ دلیل سمجھ کر یہ ثبوت انادی ہونے روحوں کے پیش کرتے ہیں۔ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات کی علت تامہ ہے اور تمام مخلوق اس کی معلول اور کوئی معلول اپنی علت تامہ سے متاخر نہیں رہ سکتا پس ثابت ہوا کہ ارواح موجودہ مثل ذات باری کے قدیم سے ہیں حادث نہیں ہیں۔ ہماری طرف سے یہ جواب ہے کہ یہ استدلال صاحب موصوف کا ہرگز درست نہیں اور نہ ان کو کچھ فائدہ بخشتا ہے بلکہ الٹا ان کے دعویٰ کو صحیح ثابت کرنے کے غلط ثابت کرتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ خداوند کریم کی ذات پاک لامحدود ولا انتہا ہے اور ارواح کی پیدائش کی علت تامہ وہی غیر متناہی ہستی ہے اب اگر بقول مدرس صاحب کے یہ فرض کیا جاوے کہ تخلف معلول کا اپنی علت تامہ سے محال ہے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ارواح