پُرانی تحریریں — Page 41
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱ پرانی تحریریں کیونکہ جن چیزوں کی طرف نسبت سلبی جائز ہو سکتی ہے بے شک ان چیزوں کی طرف نسبت ایجابی بھی جائز ہے اور نیز یہ بھی واضح رہے کہ یہ قضیہ کہ سب ارواح موجودہ نجات پا سکتے ہیں اس حیثیت سے زیر بحث نہیں کہ محمول اس قضیہ کا جو نجات عام ہے مثل کسی مجوئی حقیقی کے قابل تنقیح ہے بلکہ اس جگہ مبحوث عنہ امرکی ہے یعنی ہم کلی طور پر بحث کرتے ہیں که ارواح موجودہ نے جو ابھی مکتی نہیں پائی آیا بموجب اصول آریہ سماج کے اس امر کی قابلیت رکھتے ہیں یا نہیں کہ کسی طور کا عارضہ عام خواہ ملتی ہو یا کچھ اور ہو ان سب پر طاری ہو جائے سو آر یہ صاحبوں کے ہم ممنون منت ہیں جو انہوں نے آپ ہی اقرار کر دیا کہ یہ عارضہ عام بعض صورتوں میں سب ارواح پر واقع ہے۔ جیسے موت اور جنم کی حالت سب (۳۳) ارواح موجودہ پر عارض ہو جاتی ہے۔ اب باوا صاحب خود ہی انصاف فرما دیں کہ جس حالت میں دو مادوں میں اس عارضہ عام کے خود ہی قائل ہو گئے تو پھر اس تیسرے مادہ میں جو سب کا مکتی پانا ہے انکار کرنا کیا وجہ ہے۔ پھر با وا صاحب یہ فرماتے ہیں کہ علاوہ زمین کے سورج اور چاند اور سب ستاروں میں بھی جانور بکثرت آباد ہیں اور اس سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس ثابت ہو گیا کہ بے انت ہیں ۔ پس با وا صاحب پر واضح رہے کہ اول تو یہ خیال بعض حکماء کا ہے جس کو یورپ کے حکیموں نے اخذ کیا ہے اور ہماری گفتگو آریہ سماج کے اصول پر ہے سوا اس کے اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ آریہ سماج کا بھی یہی اصول ہے تو پھر بھی کیا فائدہ کہ اس سے بھی آپ کا مطلب حاصل نہیں ہوتا ۔ اس سے تو صرف اتنا نکلتا ہے کہ مخلوقات خدائے تعالیٰ کی بکثرت ہے۔ ارواح کے بے انت ہونے سے اس دلیل کو کیا علاقہ ہے پر شاید باوا صاحب کے ذہن میں مثل محاورہ عام لوگوں کے یہ سمایا ہوا ہو گا کہ بے انت اسی چیز کو کہتے ہیں جو بکثرت ہو۔ باوا صاحب کو یہ