پُرانی تحریریں — Page 42
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲ پرانی تحریر میں سمجھنا چاہیئے کہ جس حالت میں یہ سب اجسام ارضی اور اجرام سماوی بموجب تحقیق فن بیت اور علم جغرافیہ کے معدود اور محدود ہیں تو پھر جو چیزیں ان میں داخل ہیں کس طرح غیر معدود ہو سکتی ہیں اور جس صورت میں تمام اجرام و اجسام زمین و آسمان کے خدا نے گنے ہوئے ہیں تو پھر جو کچھ ان میں آباد ہے وہ اس کی گنتی سے کب باہر رہ سکتا ہے۔ سوایسے دلائل سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کام تو تب بنے کہ آپ یہ ثابت کریں کہ ارواح موجودہ تمام حدود و قیود و ظروف مکانی و زمانی اور فضائے عالم سے بالا تر ہے کیونکہ خدا بھی انہی معنوں میں بے انت کہلاتا ہے اگر ارواح بے انت ہیں تو وہی علامات ارواح میں ثابت کرنی چاہئیں ۔ اس لئے کہ بے انت ایک لفظ ہے کہ جس میں بقول آپ کے ارواح اور باری تعالی مشارکت رکھتے ہیں اور اس کا حد تام بھی ایک ہے یہ بات نہیں کہ جب لفظ بے انت کا خدا کی طرف نسبت کیا جائے تو اس کے اور معنی ہیں اور جب ارواح کی طرف منسوب کریں تو اور معنے ۔ پھر بعد اس کے باوا صاحب فرماتے ہیں کہ کسی نے آج تک روحوں کی تعداد (۳۳) نہیں کی اس لئے لا تعداد میں اس پر ایک قاعدہ حساب کا بھی جو ما نحن فيه سے کچھ تعلق نہیں رکھتا پیش کرتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ لا تعداد کی کمی نہیں ہو سکتی ۔ پس با وا صاحب پر واضح رہے کہ ہم تخمینی اندازہ ارواح کا بموجب اصول آپ کے بیان کر چکے ہیں اور ان کا ظروف مکانی اور زمانی میں محدود ہونا بھی بمو جب انہی اصول کے ذکر ہو چکا ہے اور آپ اب تک وہ حساب ہمارے روبرو پیش کرتے ہیں جو غیر معلوم اور نامفہوم چیزوں سے متعلق ہے اگر آپ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح خزانچی کو اپنی جمع تحویل شدہ کا کل میزان روپیہ آ نہ پائی کا معلوم ہوتا ہے اسی طرح اگر انسان کو کل تعدا د ارواح کا معلوم ہو تو تب قابل کمی ہوں گے ورنہ نہیں سو یہ بھی آپ کی غلطی ہے۔