پُرانی تحریریں — Page 40
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰ پرانی تحریریں نیز ہر پرلے کے وقت پر اُن سب کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اگر بے انت ہوتے تو اُن دونوں حالتوں مقدم الذکر میں کیوں ختم ہونا ان کا رکن اصول آریہ سماج کا ٹھہرتا۔ ۳۲ عجب حیرانی کا مقام ہے کہ با وا صاحب خود اپنے ہی اصول سے انحراف کر رہے ہیں اتنا خیال نہیں فرماتے کہ جو اشیاء ایک حالت میں قابلِ اختتام ہیں وہ دوسری حالت میں بھی یہی قابلیت رکھتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ مظروف اپنے ظرف سے کبھی زیادہ نہیں ہوتا۔ پس جبکہ کل ارواح ظرف مکانی اور زمانی میں داخل ہو کر اندازہ اپنا ہر نئی دنیا میں معلوم کرا جاتے ہیں ۔ اور پیمانہ زمان مکان سے ہمیشہ ماپے جاتے ہیں تو پھر تعجب کہ باوا صاحب کو ہنوز ارواح کے محدود ہونے میں کیوں شک باقی ہے ۔ میں باوا صاحب سے سوال کرتا ہوں کہ جیسے بقول آپ کے یہ سب ارواح جو آپ کے تصور میں بے انت ہیں سب کے سب دنیا کی طرف حرکت کرتے ہیں اگر اسی طرح اپنے بھائیوں مکتی یافتوں کی طرف حرکت کریں تو اس میں کیا استبعاد عقلی ہے اور کونسی حجب * منتقی اس حرکت سے ان کو روکتی ہے اور کس برهان لمّی یا انسی سے لازم آتا ہے کہ دنیا کی طرف انتقال اُن سب کا ہر سرشٹی کے دورہ میں جائز بلکہ واجب ہے لیکن کوچ ان سب کا مکتی یافتوں کے کوچہ کی طرف ممتنع اور محال ہے مجھ کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس عالم دنیا کی طرف کونسی پختہ سڑک ہے کہ سب ارواح اس پر بآسانی آتے جاتے ہیں ایک بھی باہر نہیں رہ جاتا اور اُن مکتی یافتوں کے راستے میں کونسا پتھر حائل پڑا ہوا ہے کہ اس طرف اُن سب کا جانا ہی محال ہے کیا وہ خدا جو سب ارواح کو موت اور جنم دے سکتا ہے سب کو مکتی نہیں دے سکتا ۔ جب ایک طور پر سب ارواح کی حالت متغیر ہو سکتی ہے تو پھر کیا وجہ کہ دوسرے طور سے وہ حالت قابل تغیر نہیں اور نیز کیا یہ بات ممکن نہیں جو خدا ان سب ارواح کا یہ نام رکھ دے کہ مکتی یاب ہیں جیسے اب تک یہ نام رکھا ہوا ہے کہ مکتی یاب نہیں حمل نقل بمطابق اصل