پُرانی تحریریں — Page 39
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹ پرانی تحریریں کبھی قابل تضعیف نہیں ہو سکتا۔ اگر ارواح بے انت ثابت ہوتے تو ایسی مدت معدود میں کیوں محصور ہو جاتے کہ جن کے اضعاف کو عقل تجویز کر سکتی ہے اور نہ کوئی دانا محمد ود زمانی اور مکانی کو بے انت کہے گا۔ باوا صاحب براہ مہربانی ہم کو بتلا دیں کہ اگر سوا چار ارب کی پیدائش کا نام بے انت ہے تو ساڑھے آٹھ ارب کی پیدائش کا نام کیا رکھنا چاہیے۔ غرض یہ قول صریح باطل ہے کہ ارواح موجودہ محدود زمانی اور مکانی ہو کر پھر بھی بے انت ہیں کیونکہ مدت معین کا توالد تناسل تعداد معینہ سے بھی زیادہ نہیں ۔ اور اگر یہ قول ہے کہ سب ارواح بدفعه واحد زمین پر جنم لیتے ہیں سو بطلان اس کا ظاہر ہے کیونکہ زمین محدود ہے اور ارواح بقول آپ کے غیر محدود پھر غیر محدود کس طرح محدود میں سما سکے۔ اور اگر یہ کہو بعض حیوانات با وصف مکتی نہ پانے کے نئی دنیا میں نہیں آتے سو یہ آپ کے اصول کے برخلاف ہے کیونکہ جبکہ پیشتر عرض کیا گیا ہے آپ کا یہ اصول ہے کہ ہر نئی دنیا میں تمام وہ ارواح جو سرشٹی گذشتہ میں مکتی پانے سے رہ گئے تھے اپنے کرموں کا پھل بھوگنے کے واسطے جنم لیتے ہیں کوئی جیو جنم لینے سے باہر نہیں رہ جاتا۔ اب قطع نظر دیگر دلائل سے اگر اسی ایک دلیل پر جو محدود فی الزمان والمکان ہونیکے ہے غور کی جائے تو صاف ثابت ہے کہ آپ کو ارواح کے متعدد ماننے سے کوئی گریز گاہ نہیں اور بجر تسلیم کے کچھ بن نہیں پڑتا ۔ بالخصوص اگر اُن سب دلائل کو جو سوال نمبرا میں درج ہو چکے ہیں ان دلائل کے ساتھ جو اس تبصرہ میں اندراج پائیں ملا کر پڑھا جائے تو کون منصف ہے جو اس نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا کہ ایسے روشن ثبوت سے انکار کرنا آفتاب پر خاک ڈالنا ہے۔ پھر افسوس کہ با وا صاحب اب تک یہی تصور کئے بیٹھے ہیں کہ ارواح بے انت ہیں اور مکتی پانے سے کبھی ختم نہیں ہوں گے اور حقیقت حال جو تھا سو معلوم ہوا کہ گل ارواح پانچ ارب کے اندر اندر ہمیشہ ختم ہو جاتے ہیں اور