پُرانی تحریریں — Page 38
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۸ پرانی تحریریں دکھلاتے اور بے انت ہونے کی وجوہات پیش کرتے ۔ آپ کو سمجھنا چاہیے کہ جس حالت میں ارواح بعض جگہ نہیں پائے جاتے تو بے انت کس طرح ہو گئے ۔ کیا بے انت کا یہی حال ہوا کرتا ہے کہ جب ایک جگہ تشریف لے گئے تو دوسری جگہ خالی رہ گئی اگر پر میشر بھی اسی طرح کا بے انت ہے تو کارخانہ خدائی کا معرض خطر میں ہے۔ افسوس کہ آپ نے ہمارے اُن پختہ دلائل کو کچھ نہ سوچا اور کچھ غور نہ کیا اور یونہی جواب لکھنے کو بیٹھ گئے ۔ حالانکہ آپ کی منصفانہ طبیعت پر یہ فرض تھا کہ اپنے جواب میں اس امر کا التزام کرتے کہ ہر ایک دلیل ہماری تحریر کر کے اس کے محاذات میں اپنی دلیل لکھتے پر کہاں سے لکھتے اور تعجب تو یہ ہے کہ اسی جواب میں آپ کا یہ اقرار بھی درج ہے کہ ضرور سب ارواح ابتدا سرشٹی میں زمین پر جنم لیتے ہیں اور مدت سوا چار ارب تک سلسلہ دنیا کا بنا رہتا ہے اس سے زیادہ نہیں ۔ اب اے میرے دوستو اور پیار واپنے دل میں آپ ہی سوچو اور اپنے قول میں خود ہی غور کرو کہ جو پیدائش ایک مقرری وقت سے شروع ہوئی اور ایک محدود مقام میں ان سب نے جنم لیا اور ایک محدود مدت تک اُن کے توالد تناسل کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو ایسی پیدائش کس طرح بے انت ہو سکتی ہے۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ بموجب اصول موضوعہ فلسفہ کے یہ قاعدہ مقرر ہے کہ جو چند محدود چیزوں میں ایک محدود عرصہ تک کچھ زیادتی ہوتی رہی تو بعد زیادتی کے بھی وہ چیزیں محدود رہیں گی ۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اگر متعدد جانور ایک متعدد عرصہ تک بچہ دیتے رہیں تو ان کی اولاد بموجب اصول مذکور کے ایک مقدار متعدد سے زیادہ نہ ہوگی اور خود از روئے حساب (۳۱) کے ہر ایک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ جس قدر پیدائش سوا چار ارب میں ہوتی ہے اگر بجائے اس مدت کے ساڑھے آٹھ ارب فرض کریں تو شک نہیں کہ اس صورت مؤخر الذکر میں پہلی صورت سے پیدائش دو چند ہو گی ۔ حالانکہ یہ بات اجلی بدیہیات ہے کہ بے انت