پُرانی تحریریں — Page 34
۲۷ روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴ پرانی تحریریں جواب الجواب با وانرائن سنگھ صاحب سکرٹری آریہ سماج امرتسر مطبوعہ پر چہ آفتاب ۱۸ فروری اول باوا صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ خدا روحوں کا خالق ہے اور ان کو پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے جواب الجواب میں قبل شروع کرنے مطلب کے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ از روئے قاعدہ فن مناظرہ کے آپ کا یہ ہرگز منصب نہیں ہوسکتا کہ آپ روحوں کے مخلوق ہونے کا ہم سے ثبوت مانگیں بلکہ یہ حق ہم کو پہنچتا ہے کہ ہم آپ سے روحوں کے بلا پیدائش ہونے کی سند طلب کریں کیونکہ آپ اسی پر چہ مذکور العنوان میں خود اپنی زبان مبارک سے اقرار کر چکے ہیں کہ پر میشر قادر ہے اور تمام سلسلہ عالم کا وہی منتظم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ثبوت دینا اس امر جدید کا آپ کے ذمہ ہے کہ پر میشر اول قادر ہو کر پھر غیر قادر کس طرح بن گیا۔ ہمارے ذمہ ہرگز نہیں جو ہم ثبوت کرتے پھریں کہ پر میشر جو قدیم سے قادر ہے وہ اب بھی قادر ہے۔ سو حضرت یہ آپ کو چاہیے تھا کہ ہم کو اس بات کا ثبوت کامل دیتے کہ پر میشر با وصف قادر ہونے کے پھر روحوں کے پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہے گا۔ ہم پر یہ سوال نہیں ہو سکتا کہ پر میشر ( جو قا در تسلیم ہو چکا ہے ) روحوں کے پیدا کرنے کی کس قدر قدرت رکھتا ہے کیونکہ خدا کے قادر ہونے کو تو ہم اور آپ دونوں مانتے ہیں۔ پس اس وقت تک تو ہم میں اور آپ میں کچھ تنازع نہ تھا۔ پھر تنازع تو آپ نے پیدا کیا جو روحوں کے پیدا کرنے سے اس قادر پر میشر کو عاجز سمجھا اس صورت میں آپ خود منصف ہوں اور بتلائیں کہ بار ثبوت کس کے ذمہ ہے؟