پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 548

پُرانی تحریریں — Page 33

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳ پرانی تحریریں یہ ہے کہ ان مضامین کے ساتھ دو ثالثوں کی رائے بھی ہو تب اندارج پاویں مگر اب مشکل یہ کہ ثالث کہاں سے لاویں ناچار یہی تجویز خوب ہے کہ آپ ایک فاضل نامی گرامی صاحب تالیف و تصنیف کا براہم سماج کے فضلاء میں سے منتخب کر کے اطلاع دیں جو ایک خدا ترس اور فروتن اور محقق اور بے نفس اور بے تعصب ہو اور ایک انگریز کہ جس کی قوم کی زیر کی بلکہ بے نظیری کے آپ قائل ہیں انتخاب فرما کر اس سے بھی اطلاع بخشیں تو اغلب ہے کہ میں ان دونوں کو منظور کرونگا اور میں نے بطور سرسری سنا ہے کہ آپ کے بر ہموسماج میں ایک صاحب کیشپ چندر نام لیق اور دانا آدمی ہیں اگر یہی سچ ہے تو وہی منظور ہیں ان کے ساتھ ایک انگریز کر دیجئے مگر منصفوں کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ صرف اتنا ہی لکھیں کہ ہماری رائے میں یہ ہے یا وہ ہے بلکہ ہر ایک فریق کی دلیل کو اپنے بیان سے توڑنا یا بحال رکھنا ہوگا ۔ دوسرے یہ مناسب ہے کہ اس مضمون کو رسالہ میں متفرق طور پر درج نہ کیا جائے کہ اس میں منصف کو دوسرے نمبروں کا مدت دراز تک انتظار کرنا پڑتا ہے بلکہ مناسب ہے کہ یہ سارا مضمون ایک ہی دفعہ برادر ہند میں درج ہو یعنی تین تحریر میں ہماری طرف سے اور تین ہی آپ کی طرف سے ہوں اور ان پر دونوں منصفوں کی مفصل رائے درج ہو اور اگر آپ کی نظر میں اب کی دفعہ منصفوں کی رائے درج کرنا کچھ دقت ہو تو پھر اس صورت میں یہ بہتر ہے کہ جب میں بفضلہ تعالیٰ امرتسر سے واپس آکر تحریر ثالث آپ کے پاس بھیج دوں تو آپ بھی اُس پر کچھ مختصر تحریر کر کے مینوں تحریر یں یکدفعہ چھاپ دیں اور ان تحریروں کے اخیر میں یہ بھی لکھا جائے کہ فلاں فلاں منصف صاحب اس پر اپنا اپنا موجہ رائے تحریر فرمادیں اور پھر دو جلدیں اس رسالہ کی منصفوں کی خدمت میں مفت بھیجی جائیں۔ آئندہ جیسے آپ کی مرضی ہو اس سے اطلاع بخشیں اور جلد اطلاع بخشیں۔ اور میں نے چلتے چلتے جلدی سے یہ خط لکھ ڈالا ہے کمی بیشی الفاظ سے معاف فرمائیں۔ راقم آپ کا نیاز مند غلام احمد عفی عنہ ۷ ارجون ۱۸۷۹ء