پُرانی تحریریں — Page 35
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵ پرانی تحریریں اور اگر ہم بطریق تنزل یہ بھی تسلیم کر لیں کہ اگر چہ دعویٰ آپ نے کیا مگر اثبات اُس کا ہمارے ذمہ ہے۔ پس آپ کو مردہ ہو کہ ہم نے سفیر ہندا ۲ ۔ فروری میں خدا کے خالق ہونے کا ثبوت کامل دے دیا ہے۔ جب آپ بنظر انصاف پر چہ مذکور کو ملاحظہ فرمائیں گے ۲۸ تو آپ کی تسلی کامل ہو جائے گی۔ اور خود ظاہر ہے کہ خدا تو وہی ہونا چاہیئے جوموجد مخلوقات ہو نہ یہ کہ زور آور سلاطین کی طرح صرف غیروں پر قابض ہو کر خدائی کرے۔ اور اگر آپ کے دل میں یہ شک گذرتا ہے کہ پر میشر جو اپنی نظیر نہیں پیدا کر سکتا شاید اسی طرح ارواح کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہ ہوگا ۔ پس اس کا جواب بھی پر چہ مذکورہ ۹۔ فروری میں پختہ دیا گیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا ایسے افعال ہرگز نہیں کرتا جن سے اس کی صفات قدیم کا زوال لا زم آوے جیسے وہ اپنا شریک نہیں پیدا کر سکتا اپنے آپ کو ہلاک نہیں کر سکتا کیونکہ اگر ایسا کرے تو اس کی صفات قدیمہ جو وحدت ذاتی اور حیات ابدی ہے زائل ہو جائے گی ۔ پس وہ قدوس خدا کوئی کام بر خلاف اپنی صفات از لیہ کے ہر گز نہیں کرتا باقی سب افعال پر قادر ہے۔ پس آپ نے جو روحوں کی پیدائش کو شریک الباری کی پیدائش پر قیاس کیا تو خطا کی ۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ آپ کا قیاس مع الفارق ہے ہاں اگر یہ ثابت کر دیتے کہ پیدا کرنا ارواح کا بھی مثل پیدا کرنے نظیر اپنی نے خدا کی کسی صفت عظمت اور جلال کے بر خلاف ہے تو دعویٰ آپ کا بلاشبہ ثابت ہو جاتا۔ پس آپ نے جو تحریر فرمایا ہے کہ یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ خدا نے روح کہاں سے پیدا کئے ۔ اس تقریر سے صاف پایا جاتا ہے کہ آپ کو خدا کے قدرتی کاموں سے مطلق انکار ہے اور اس کو مثل آدم زاد کے محتاج باسباب سمجھتے ہیں اور اگر آپ کا اس تقریر سے یہ مطلب ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح پر میشر روحوں کو پیدا کر لیتا ہے تو اس وہم کے دفع میں پہلے بھی لکھا گیا تھا کہ پر میشر کی قدرت کا ملہ میں حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” کے “ہونا چاہیے۔(ناشر)