نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 623 of 822

نزول المسیح — Page 623

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۱۹ نزول المسيح اشاعت یہ کتاب نزول مسیح زیر طبع تھی کہ مولوی کرم دین ساکن بھین نے جس کے خطوط اس کتاب میں درج کئے گئے ہیں ایک مقدمہ دائر عدالت کیا کہ مجھ کو کذاب اور لٹیم مواہب الرحمن میں ( جو حضرت اقدس کی عربی تالیفات سے ہے ) لکھا گیا ہے اور اس کتاب میں میرے جو خطوط لکھے گئے ہیں وہ جعلی ہیں اور ایک نسخہ اس کا کسی ذریعہ سے حاصل کر کے اس کو عدالت میں پیش کیا جس کی وجہ سے کتاب کے طبع ہونے میں روک پیش آگئی یہ مقدمہ مع دیگر مقدمات کے دو ڈھائی سال تک جاری رہا اور آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں ( نسبت انجام مقدمات ) کے مطابق یہ مقدمات فیصل ہوئے اور حضرت اقدس و اطہر نے ان کے فیصلہ کے بعد ایک کتاب اور لکھنی شروع کی جس کا نام نصرة الحق رکھا اور جو بعد میں براہین احمدیہ حصہ پنجم کے جلیل القدر نام سے موسوم ہوئی اور اس کے اندر مقدمات میں جو جو تائیدات الہیہ آپ کے شامل حال رہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے اوائل کتاب میں ہی کردین مدعی کے متعلق یہ شعر تحریر فرمایا کہ ۲۰۸ کذاب اس کا نام دفاتر میں رہ گیا چالا کیوں کا فخر جو رکھتا تھا یہ گیا کتاب نصرة الحق ابھی زیر طبع ہی تھی کہ ایک فتنہ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کے ارتداد کا اٹھا جس کے دفع کرنے کے واسطے آپ نے حقیقۃ الوحی ایک ضخیم کتاب جو سات کو صفحہ کی ہے تصنیف فرمائی اور اس میں دوسو آٹھ نشانات کا ذکر بھی آپ نے فرمایا جو آپ کی تصدیق میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے فعلی شہادت کے طور پر ظہور پذیر ہوئے اس کے ختم کرنے پر ارادہ تھا کہ یہ کتاب اور نیز نصرۃ الحق کو مکمل کیا جاوے کہ انہیں ایام میں آپ کا ایک مضمون آریوں کے جلسہ میں پڑھا گیا جس کے بالمقابل آریوں کی طرف سے گالیوں سے بھرا ہوا لیکچر حضرت کے خدام کی حاضری میں سنایا گیا اس کے جواب میں کتاب چشمہ معرفت جو ساڑھے تین سو صفحہ کی پر معارف کتاب ہے ، آپ نے شائع فرمائی۔ ابھی اس کو شائع کئے دو تین روز گذرے تھے کہ پیغام صلح کے لکھنے پر ضرورت وقت نے حضور کو توجہ دلائی وہ لکھ ہی رہے تھے اور ختم کیا ہی تھا کہ خدائے تعالی کی طرف سے آپ کی طلبی کا پیغام آپہنچا اور رسالہ الوصیت ) مجریہ ۱۹۰۶ء کی پیشگوئیوں کے مطابق الرّحيل ثم الرحيل کا نقارہ بج گیا۔