نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 622 of 822

نزول المسیح — Page 622

روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۶۱۸ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وجی نے مندرجہ ذیل پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہوچکیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۱۲۲ ۷ار فروری ۱۸۸۳ء وجنوری ۱۸۸۴ء پیشگوئی نمبر ۱۲۳ زنده گواه رویت بھائی محمد یعقوب نے بھی تصدیق کی ہے شائد میں نے اس خواب کو سو سے زیادہ لوگوں کو سنایا ہوگا۔ چنانچہ وہ پیشگوئی آج پوری ہو رہی ہے اور روحانی تلوار نے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو فتح کر لیا ہے اور کرتی جاتی ہے۔ سید عباس علی لدھیانوی کو ہم نے اپنے ابتدائی خطوط میں اپنے کشوف کے ذریعہ سے اس بات سے پیش از وقت اطلاع دیدی تھی کہ آپ کا انجام اچھا نہیں معلوم ہوتا ہے حالانکہ وہ اس وقت اپنے تئیں اسی راہ میں فنا شدہ ظاہر کرتے تھے۔ چنانچہ بعض کلمات ان خطوط کے مفصلہ ذیل ہیں ۔ " بنظر کشفی آپ کے دل میں انقباض معلوم ہوا ۔ ” آپ کسی نئے امر کے پیش آنے پر مضطرب نہ ہوں آپ ابتلا سے بیچ نہیں سکتے “ ” نیک ظن بننا آسان ہے مگر نبھانا مشکل ۔ نہایت بد نصیب وہ انسان ہے جس کا انجام آغاز کا سا جوش نہیں رکھتا۔" ان سے صاف ظاہر تھا کہ اس کا انجام اچھا نہیں۔ چنانچہ چند سالوں کے بعد وہ مرتد ہو گیا۔ مکتوب میرا اُن کی خاص دستخطی موجود ہے جس میں اس پیشگوئی سے کئی سال بعد اس کا انجام بد ہوا۔ یہ مکتوب ان کی وفات کے بعد ان کے کتب خانہ سے ملا ۔ اس مکتوب کے دیکھنے سے ہر ایک کو معلوم ہوگا کہ دنیا کیسا عبرت کا مقام ہے جب انسان پر شقاوت کے دن آتے ہیں تو وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا۔ جس شخص کو پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ تو بر گشتہ ہو جائے گا اور ٹھوکر کھائے گا وہ برگشتہ ہو کر اس پیشگوئی سے کچھ فائدہ اٹھا نہ سکا۔ تاریخ ظہور پیشگوئی خطوط کے قریباً نو سال بعد ان نشانوں کے گواہ منشی ظفر احمد صاحب ۔ حافظ محمد یوسف صاحب۔ محمد یعقوب صاحب - منشی محمد خان صاحب ۔عبداللہ سنوری وغیرہ احباب ہیں۔