نزول المسیح — Page 581
روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۷۷ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بلائیں جو نیا پر ظاہر ہو چکیں بلکہ مردانگی اور انصاف میں اس سے بڑھ کر ۔ لیکن خدا کا اور فضل یہ ہوا کہ خود عبدالحمید نے عدالت میں اقرار کر لیا کہ عیسائیوں نے مجھے سکھلا کر یہ اظہار دلایا تھا ورنہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے کہ مجھے قتل کے لئے ترغیب دی گئی تھی پس صاحب ضلع نے اس آخری بیان کو صحیح سمجھا اور بڑے زور وشور کا چٹھا لکھ کر مجھے بری کر دیا اور تقسیم کے ساتھ عدالت میں مجھے مبارکباد دی فالحمد لله علی ذالک اسی مذکورہ بالا سلسلہ الہام میں ایک الہام یہ تھا کہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق۔ چنانچہ اس الہام کا ایک حصہ تو اس طرح پر پورا ہوا کہ ہمارے مخالفین یعنی عبدالحمید اور اس کو سکھانے والے عیسائیوں میں پھوٹ پڑی کہ عبدالحمید نے صاف اقرار کر لیا کہ مجھے ان لوگوں نے یہ جھوٹی بات سکھائی تھی ورنہ اصل میں یہ کچھ بات نہ تھی صرف ان کے بہکانے پر میں نے ایسا کہا اور یہ الہام قبل از وقت تین سو سے زیادہ اشخاص کو بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۰ پیشگوئی نمبر ۶۱ ۲۹ جولائی ۱۸۹۷ء ۲۹ جولائی ۹۷ نمبر ۶۲ زندہ گواہ رویت کے سنایا گیا تھا اور وہ زندہ ہیں۔ تاریخ ظہور پیشگوئی اور دوسرا حصہ الہام کا اس طرح سے پورا ہوا کہ دوران مقدمہ میں جب موحدین کے ایڈوکیٹ مولوی محمد حسین میری مخالفت میں عیسائیوں کے گواہ بن کر پیش ہوئے تو بر خلاف اپنی امیدوں کے میری عزت دیکھ کر اس طمع خام میں پڑے کہ ہم بھی کرسی مانگیں چنانچہ آتے ہی انہوں نے سوال کیا کہ مجھے ان پیشگوئیوں کے گواہ ہزاروں آدمی موافق و مخالف موجود ہیں چنانچہ بعض کے نام یہ ہیں۔ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب۔ شیخ رحمت اللہ صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب مفتی محمد صادق صاحب۔ خلیفہ نورالدین صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب بی اے۔ مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے۔ وغیرہ