نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 582 of 822

نزول المسیح — Page 582

۲۰۰ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۷۸ نزول المسيح نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وجی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۲ ۲۹ / مارچ ۱۸۹۷ء پیشگوئی نمبر ۶۳ پیشگوئی نمبر ۶۴ زنده گواه رویت 67015 کری ملنی چاہئے مگر افسوس کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے ان کو جھڑک دیا اور سخت جھڑ کا کہ تم کو کرسی نہیں مل سکتی۔ سو یہ خدا کا ایک نشان تھا کہ جو کچھ انہوں نے میرے لئے چاہا وہ خود ان کو پیش آگیا۔ اسی سلسلہ الہامات میں ایک یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ بلجت آیاتی یعنی میرے نشان ظاہر ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس واقعہ سے قریباً ڈیڑھ سال بعد عبد الحمید ملزم کو پھر گرفتار کیا گیا اور کتنی مدت زیر حراست رکھ کر اس سے پھر اظہار لئے گئے مگر اس نے یہی گواہی دی کہ میرا پہلا بیان ہی جھوٹا تھا جو عیسائیوں کے سکھلانے پر میں نے کہا تھا پس اس طرح خدا نے میری بریت کو مکمل کر دیا۔ اس الہام کے یہ معنی تھے کہ میری بریت کے لئے اور بھی خدا کی طرف سے نشان ظاہر ہوں گے سوالیسا ہی ظہور میں آیا۔ تاریخ ظہور پیشگوئی ۱۲ ستمبر ۱۸۹۹ء 76715 اسی مقدمہ کے ذریعہ سے جو خون کے الزام کا مقدمہ تھا وہ الہامی پیشگوئی پوری ہوئی جو براہین احمدیہ میں اس مقدمہ سے ۲۰ برس پہلے درج تھی اور وہ الہام یہ ہے فراهُ الله مما قالوا وكان عند الله وجيها۔ يعنى خدا اس شخص کو اس الزام سے جو اس پر لگایا جائے گا بری کر دے گا کیونکہ وہ خدا کے نزدیک وجیہہ ہے سو یہ خدا تعالیٰ کا ایک بھاری نشان ہے کہ باوجود یکہ قوموں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے اتفاق کر لیا تھا مسلمانوں ان پیشگوئیوں کے گواہ بہت سے احباب ہیں مثلاً منشی تاج الدین صاحب۔ میر ناصر نواب صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی سید محمد احسن صاحب۔ مولوی قطب الدین صاحب۔ حافظ عبدالعلی صاحب بی اے۔ میر محمد اسمعیل صاحب۔ صاحبزادہ منظور احمد صاحب وغیرہ وغیرہ۔