نزول المسیح — Page 580
۱۹۸ روحانی خزائن جلد ۱۸ تاریخ بیان ۵۷۶ نزول المسيح تاریخ ظہور پیشگوئی نمبر شمار پیشگوئی جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی جی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں جو دنیاپر ظاہر ہوچکیں بقیہ پیشگوئی نمبر ۶۰ زنده گواه رویت نمبر ۶۰ کتاب البریت بھی تالیف ہوئی تا ہمیشہ کے لئے ان کو یا در ہے کہ جو کچھ قبل از مقدمه ان دوستوں کو خبر دی گئی وہ سب باتیں کیسی صفائی سے ان کے روبرو ہی پوری ہو گئیں ۔ یہ مقدمہ اس طرح سے ہوا کہ ایک شخص عبدالحمید نام نے عیسائیوں کے سکھلانے پر مجسٹریٹ ضلع امرتسر کے رو بر واظہار دئے کہ مجھے مرزا غلام احمد نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ اس پر مجسٹریٹ امرتسر نے میری گرفتاری کے لئے یکم اگست کو وارنٹ جاری کیا جس کی خبر سن کر ہمارے مخالفین امرتسر و بٹالہ میں ریل کے پلیٹ فارموں اور سڑکوں پر آ آ کر کھڑے ہوتے تھے تا کہ میری ذلت دیکھیں لیکن خدا کی قدرت ایسی ہوئی کہ اول تو وہ وارنٹ خدا جانے کہاں گم ہو گیا ۔ دوم مجسٹریٹ ضلع امرتسر کو بعد میں خبر لگی کہ اس نے غیر ضلع میں وارنٹ جاری کرنے میں بڑی غلطی کھائی ہے پس اس نے ۶ راگست کو جلدی سے صاحب ضلع گورداسپور کو تار دیا کہ وارنٹ فورا روک دو جس پر سب حیران ہوئے کہ وارنٹ کیسا۔ لیکن مثل مقدمہ کے آنے پر صاحب ضلع گورداسپور نے ایک معمولی سمن کے ذریعہ سے مجھے بلایا اور عزت کے ساتھ اپنے پاس کرسی دی یہ صاحب ضلع جس کا نام کپتان ایم ڈبلیوڈ ٹکس تھا بسبب زیرک اور دانشمند اور منصف مزاج ہونے کے فوراً سمجھ گیا کہ مقدمہ بے اصل اور جھوٹا ہے اس لئے میں نے ایک دوسرے مقام میں اس کو پیلاطوس سے نسبت دی ہے۔ سید حامد شاہ صاحب سپرنٹنڈنٹ دفتر صاحب ضلع ۔ شیخ مولا بخش صاحب سوداگر و دیگر جماعت سیالکوٹ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب لاہور ۔ منشی ظفر احمد صاحب۔ میاں محمد خان صاحب۔ منشی محمد اروڑا صاحب و دیگر جماعت کپورتھلہ ۔ خلیفہ نورالدین صاحب و دیگر جماعت جموں ۔ چوہدری رستم علی صاحب کو رٹ انسپکٹر ۔ سید امیر شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر وغیرہ یہ چند ایک نام بطور نمونہ کے لکھے گئے ہیں۔