نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 525 of 822

نزول المسیح — Page 525

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۲۱ نزول المسيح بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۳ پیشگوئی نمبر ۲۴ تاریخ بیان نمبر شمار پیشگوئی جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جو ظہور میں آچکیں ہوئی اور اس وقت میں مسجد میں تھا اور چونکہ یہ صورت میری پیشگوئی کے مخالف تھی اس لئے سخت گھبراہٹ کا موجب ہوئی میں اس بیقراری میں تھا کہ عین سجدہ کے وقت میں مجھے الہام ہوا لا تخف انک انت الاعلى یعنی کچھ خوف نہ کر تو ہی غالب ہے۔ آخر وہ خبر غلط ثابت ہوئی اور بشمیر داس کی قید تو تخفیف ہوئی مگر وہ بری نہ ہوا۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۰۔ ہمارا ایک مقدمہ تحصیل بٹالہ میں موروثی اسامیوں پر بابت درود درختوں کے تھا مجھے معلوم کر لیا گیا کہ اس مقدمہ میں ڈگری ہوگی مگر حکم سنانے کے وقت فریق ثانی تو عدالت میں موجود تھا اور ہماری طرف سے اتفاقاً کوئی حاضر نہ تھا۔ شام کو فریق ثانی اور اس کے گواہوں نے جو قریب پندرہ آدمی کے تھے بازار میں آکر بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔ شرمیت اور دیگر آریہ لوگوں کو جو میں نے یہ پیشگوئی سنائی تھی وہ بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارا ہاتھ پڑ گیا اور مجھے سخت اضطراب ہوا اس لئے کہ بیان کرنے والے پندرہ آدمی ہیں۔ عصر کا وقت تھا اور میں مسجد میں اکیلا تھا اور کوئی نہ تھا اتنے میں ایک آواز گونج کر آئی۔ میں نے خیال کیا کہ یہ باہر سے آواز ہے آواز زندہ گواہ رویت کے۔ VLVI تاریخ ظہور پیشگوئی کے یہ لفظ تھے کہ ڈگری ہو گئی مسلمان ہے یعنی تو کیوں باور نہیں کرتا پیشگوئی نمبر ۲۴ کے متعلق مثل دفتر سرکاری میں موجود ہے اور شرمیت وغیرہ آریہ گواہ ہیں ۔ حاکم مجوز نے جس کا نام حافظ ہدایت علی تھا صرف مدعا علیہ کے بیان پر کہ ہمیں حسب فیصلہ صاحب کمشنر درخت کاٹ لینے کا حق حاصل ہے، مقدمہ کو خارج کر دیا اور مدعا علیہ کو حکم سنا کر معہ اس کے گواہوں کے رخصت کر دیا۔ اس پر انہوں نے گاؤں میں آکر مشہور کر دیا کہ مقدمہ خارج ہو گیا ہے لیکن جب وہ عدالت کے کمرہ سے نکل گئے تو اس وقت مثل خوان نے جو اتفاقاً باہر گیا ہوا تھا حاکم کو کہا کہ آپ نے اس مقدمہ میں دھوکا کھایا ہے اور جو فریق ثانی نے نقل رو بکار صاحب کمشنر پیش