نزول المسیح — Page 497
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۹۳ نزول المسيح نہ ہوں وہ طاقت بڑے جوش اور زور سے بتلاتی ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور ملہم ۱۵ کے کے دل کو ایسا اپنا مسخر بنا لیتی ہے کہ اگر اس کو آگ میں کھڑا کر دیا جاوے یا ایک بجلی اس پر پڑنے لگے وہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ الہام شیطانی ہے یا حدیث النفس ہے یا شکی ہے یا ظنی ہے بلکہ ہر دم اس کی روح بولتی ہے کہ یہ یقینی ہے اور خدا کا کلام ہے۔ (۲) دوسرے خدا کے الہام میں ایک خارق عادت شوکت ہوتی ہے (۳) تیسری وہ پر زور آواز اور قوت سے نازل ہوتا ہے (۴) چوتھی اس میں ایک لذت ہوتی ہے (۵) اکثر اس میں سلسلہ سوال و جواب پیدا ہو جاتا ہے۔ بندہ سوال کرتا ہے خدا جواب دیتا ہے اور پھر بندہ سوال کرتا خدا جواب دیتا ہے۔ خدا کا جواب پانے کے وقت بندہ پر ایک غنودگی طاری ہوتی ہے لیکن صرف غنودگی کی حالت میں کوئی کلام زبان پر جاری ہونا وحی الہی کی قطعی دلیل نہیں کیونکہ اس طرح پر شیطانی الہام بھی ہو سکتا ہے (1) چھٹی وہ الہام کبھی ایسی زبانوں میں بھی ہو جاتا ہے جن کا ملہم کو کچھ بھی علم نہیں ۔ (۷) خدائی الہام میں ایک خدائی کشش ہوتی ہے۔ اول وہ کشش ملہم کو عالم تفرید اور انقطاع کی طرف کھینچ لے جاتی ہے اور آخر اس کا اثر بڑھتا بڑھتا طبائع سلیمہ مبائعین پر جا پڑتا ہے تب ایک دنیا اس کی طرف کھینچی جاتی ہے اور بہت سی روحیں اس کے رنگ میں بقدر استعداد آجاتی ہیں (۸) آٹھویں سچا الہام غلطیوں سے نجات دیتا اور بطور حکم کے کام کرتا ہے اور قرآن شریف سے کسی بیان میں مخالف نہیں ہوتا ۔ (۹) بچے الہام کی پیشگوئی فی حد ذاتہ بچی ہوتی ہے۔ گو اس کے سمجھنے میں لوگوں کو دھوکا ہو ۔ (۱۰) دسویں سچا الہام تقویٰ کو بڑھاتا اور اخلاقی قوتوں کو زیادہ کرتا اور دنیا سے دل برداشتہ کرتا اور معاصی سے متنفر کر دیتا ہے (۱۱) سچا الہام چونکہ خدا کا قول ہے اس لئے وہ اپنی تائید کے لئے خدا کے فعل کو ساتھ لاتا ہے اور اکثر بزرگ پیشگوئیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو سچی نکلتی ہیں اور قول اور فعل دونوں کی آمیزش سے یقین کے دریا جاری ہو جاتے ہیں اور انسان سفلی زندگی سے منقطع ہو کر ملکوتی صفات بن جاتا ہے۔ یعنی الہام میں سے جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے وہ حصہ جو خوارق اور پیشگوئیوں پر مشتمل ہے ہم کسی قدر اس میں سے بطور نمونہ ذیل میں لکھتے ہیں۔