نزول المسیح — Page 496
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۹۲ نزول المسيح (۱۴) رہ جاتے ہیں اور آسمان کا تازہ پانی یعنی تازہ کلام الہی ان کے پاس نہیں آتا ۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ خدا نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ مردود مذہب کی یہ نشانی ہے کہ تازہ کلام کا نور اس میں پایا نہیں جاتا اور وہ لوگ ہمیشہ اسی کلام پر بھروسہ رکھتے ہیں جس کو تازہ الہی کلام تصدیق نہیں کرتا اور نہ تازہ نشان تصدیق کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے دل مردہ رہتے ہیں اور نور یقین جو گناہوں کو جلاتا ہے ان کے نزدیک نہیں آتا۔ اس تمام بیان کا خلاصہ درخلاصہ یہ ہے کہ تازہ کلام الہی خدا کی شریعت کا پشتیبان ہے اور اس کشتی کو جو گناہوں کے سبب سے غرق ہونے لگتی ہے جلد تر کنار امن تک پہنچانے والا ہے مگر شائد کوئی بھول نہ جائے اس لئے بار بار کہا جاتا ہے کہ کلام الہی سے مراد وہی کلام ہے کہ جو زمانہ کے لئے تازہ طور پر اترتا ہے اور اپنی طبعی خاصیت سے ملہم اور اس کے ہم نشینوں پر ثابت کرتا ہے کہ میں یقینی طور پر خدا کا کلام ہوں۔ اور ایسا ملہم طبعا اس میں اور خدا کے دوسرے کلمات میں جو پہلے نبیوں پر نازل ہوئے من حیث الوحی کچھ فرق نہیں سمجھتا گو دوسری وجوہ سے کچھ فرق ہو۔ لیکن یادر ہے کہ عوام الناس کے ایسے شکی وہی الہام ہماری اس بحث سے خارج ہیں جن کے ساتھ نہ تو خدائی نشان اور آسمانی متواتر تائیدیں ہوتی ہیں کہ تا اس قول کو فعل کی شہادت کے ساتھ قوت دیں اور نہ خود مہم کو ان کی نسبت یقین کامل ہوتا ہے بلکہ وہ ہمیشہ ڈبدہا میں رہتا ہے کہ آیا یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ اس جگہ یہ نقطہ خوب توجہ سے یادر کھنے کے لائق ہے کہ جو الہامات ایسے کمزور اور ضعیف الاثر ہوں جو ملہم پر مشتبہ رہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے ۔ وہ در حقیقت شیطان کی طرف سے ہی ہوتے ہیں یا شیطان کی آمیزش سے۔ اور گمراہ ہے وہ شخص جو ان پر بھروسہ کرتا ہے اور بد بخت ہے وہ شخص جو اس خطر ناک ابتلا میں ماخوذ ہے کیونکہ شیطان اس سے بازی کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو ہلاک کرے۔ اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ پھر رحمانی الہام کی نشانی کیا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ اس کی کئی نشانیاں ہیں۔ (۱) اول یہ کہ البی طاقت اور برکت اس کے ساتھ ایسی ہوتی ہے کہ اگر چہ اور دلائل ابھی ظاہر