نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 498 of 822

نزول المسیح — Page 498

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۹۴ نزول المسيح یعنی ہم نمونہ کے طور پر چند وہ نشان لکھتے ہیں جو اس وحی کے ساتھ وقتاً فوقتاً ظاہر ہوئے جو میرے پر نازل ہوئی اور وہ یہ ہیں :۔ تاریخ نمبر شمار بیان پہلی پیشگوئی زندہ گواہ رویت کے تاریخ ظہور جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وحی نے یہ خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو پیشگوئی دنیا پر ظاہر ہو چکیں اور ہزار ہا ان کے گواہ ہیں جن میں سے بعض اس جگہ لکھے گئے ۔ پیشگوئی پہلی پیشگوئی معہ تفصیل واقعہ۔ میرے والد صاحب میرزا غلام مرتضی مرحوم اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے گورنمنٹ انگریزی میں وہ پنشن للعمار پاتے تھے اور اس کے علاوہ چار سور و پید انعام ملتا تھا اور چار گاؤں زمینداری آج کے تھے پنشن اور انعام ان کی ذات تک وابستہ تھے اور زمینداری کے تک دیہات کے متعلق شرکاء کے مقدمات شروع ہونے کو تھے اتنے میں وہ قریباً ظاہر شے برس کی عمر میں بیمار ہو گئے اور پھر بیماری سے شفا بھی ہوگئی ۔ ہو رہی کچھ خفیف سی زحیر باقی تھی ۔ ہفتہ کا روز تھا اور دو پہر کا وقت تھا کہ ہے مجھے کچھ غنودگی ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ وَ السَّماءِ والطارق جس کے معنی مجھے یہ سمجھائے گئے کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی کہ غروب آفتاب کے بعد پڑیگا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ پیشگوئی میرے والد کے متعلق ہے اور وہ آج ہی غروب آفتاب کے بعد وفات پائیں گے اور یہ قول خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور ماتم پرسی کے ہے۔ اس وحی الہی کے ساتھ ہی میرے دل میں بمقتضائے بشریت اس وحی الہی کی گواہ رویت ایک بڑی جماعت ہے۔ اگر میں تفصیل سے لکھوں تو ایک ہزار سے بھی زیادہ ہو گا مگر چونکہ حضرت مرزا صاحب مرحوم کی وفات کے بعد ہی جس کو آج اٹھائیس برس گزر چکے ہیں اس الہام کو ایک نگینہ پر کھدوا کر ایک مہر بنوائی گئی تھی جواب تک موجود ہے جس کا یہ نشان ہے اس لئے زیادہ ثبوت کی حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کا سن وفات اغلبا ” جون ۱۸۷۶ء “ ہے۔(ناشر)