نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 822

نزول المسیح — Page 444

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۰ نزول المسيح اس قدر تصانیف عربیہ جو مضامین دقیقہ علمیہ حکمیہ پر مشتمل ہیں بغیر ایک کامل علمی وسعت کے کیونکر (۶۲) انسان ان کو انجام دے سکتا ہے۔ کیا یہ تمام علمی کتابیں حریری یا ہمدانی کے سرقہ سے طیار ہو گئیں اور ہزار ہا معارف اور حقائق دینی و قرآنی جو ان کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ حریری اور ہمدانی میں کہاں ہیں۔ اس قدر بے شرمی سے منہ کھولنا کیا انسانیت ہے۔ یہ لوگ اگر کچھ شرم رکھتے ہوں تو اس شرمندگی سے جلتے ہی مرجائیں کہ جس شخص کو جاہل اور علم عربی سے قطعا بے خبر کہتے تھے اُس نے تو اس قدر کتابیں فصیح بلیغ عربی میں تالیف کر دیں مگر خود اُن کی استعداد اور لیاقت کا یہ حال ہے کہ قریبا دس برس ہونے لگے برابر اُن سے مطالبہ ہو رہا ہے کہ ایک کتاب ہی بالمقابل ان کتابوں کے تالیف کر کے دکھلا ئیں مگر کچھ نہیں کر سکے صرف مکہ کے کفار کی طرح یہی کہتے رہے کہ لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کی مانند کہہ دیں لیکن جس حالت میں ان کو گالیاں دینے کے لئے تو خوب فرصت ہے تو پھر کیا وجہ کہ ایک عربی رسالہ کی تالیف کے لئے فرصت نہیں ہے اور جس حالت میں ہزاروں اشتہار گالیوں کے چھاپ کر شائع کر رہے ہیں تو پھر کیا وجہ کہ عربی کتاب کے چھاپنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں خیال نہیں کرتا کہ کوئی عاقل ایسے عذرات ان کے کو قبول کر سکے اور صرف چند فقرے ہیں ہزار فقروں میں سے پیش کر کے یہ کہنا کہ یہ مسروقہ ہیں یہ اس درجہ کی بے حیائی ہے جو بجز پیر مہر علی شاہ کے کون ایسا کمال دکھلا سکتا ہے۔ اے نادان ! اگر علمی اور دینی کتابیں جو ہزار ہا معارف اور حقائق پر مندرج ہوتی ہیں صرف فرضی افسانوں کی عبارتوں کے سرقہ سے تالیف ہو سکتی ہیں تو اس وقت تک کس نے آپ لوگوں کا منہ بند کر رکھا ہے کیا ایسی کتابیں بازاروں میں ملتی نہیں ہیں جن سے سرقہ کر سکو۔ اُن لعنتوں کو کیوں آپ لوگوں نے ہضم کیا جو در حالت سکوت ہماری طرف سے آپ کے نذر ہوئیں اور کیوں ایک سورۃ کی بھی تفسیر عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے شائع نہ کر سکے تا دنیا دیکھتی کہ کس قدر آپ عربی دان ہیں۔ اگر آپ کی نیت بخیر ہوتی تو میرے مقابل تفسیر لکھنے کے لئے ایک مجلس میں بیٹھ جاتے تا دروغ گو بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔ خیر تمام دنیا اندھی نہیں ہے آخر سوچنے والے بھی موجود ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ یہ بھی اشتہار دیا کہ تم ہمارے مقابلہ پر کوئی عربی رسالہ لکھو پھر عربی زبان جاننے والے اُس کے منصف