نزول المسیح — Page 445
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۴۱ نزول المسيح ٹھہرائے جائیں گے پھر اگر تمہارا رسالہ فصیح بلغ ثابت ہوا تو میرا تمام دعوئی باطل ہو جائے گا اور میں اب ۶۳) بھی اقرار کرتا ہوں کہ بالمقابل تغییر لکھنے کے بعد اگر تمہاری تغییر لفظا و معنا اعلیٰ ثابت ہوئی تو اُس وقت اگر تم میری تفسیر کی غلطیاں نکالو تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام دوں گا۔ غرض بیہودہ نکتہ چینی سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بذریعہ تفسیر عربی اپنی عربی دانی ثابت کرو کیونکہ جس فن میں کوئی شخص دخل نہیں رکھتا اس فن میں اُس کی نکتہ چینی قبول کے لائق نہیں ہوتی ۔ معمار معمار کی نکتہ چینی کر سکتا ہے اور حد ادحداد کی مگر ایک خاکروب کو حق نہیں پہنچتا کہ ایک دانا معمار کی نکتہ چینی کرے۔ آپ کی ذاتی لیاقت تو یہ ہے کہ ایک سطر بھی عربی نہیں لکھ سکتے۔ چنانچہ سیف چشتیائی میں بھی آپ نے چوری کے مال کو اپنا مال قرار دیا تو پھر اس لیاقت کے ساتھ کیوں آپ کے نزدیک شرم نہیں آتی ۔ اے بھلے آدمی پہلے اپنی عربی دانی ثابت کر پھر میری کتاب کی غلطیاں نکال اور فی غلطی ہم سے پانچ روپیہ لے اور بالتقابل عربی رسالہ لکھ کر میرے اس کلامی معجزہ کا باطل ہونا دکھلا۔ افسوس کہ دس برس کا عرصہ گذر گیا کسی نے شریفانہ طریق سے میرا مقابلہ نہیں کیا۔ غایت کا راگر کیا تو یہ کیا کہ تمہارے فلاں لفظ میں فلاں غلطی ہے اور فلاں فقرہ فلاں کتاب کا مسروقہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ جب تک خود انسان کا صاحب علم ہونا ثابت نہ ہو کیونکر اُس کی نکتہ چینی صحیح مان لی جائے کیا ممکن نہیں کہ وہ خود غلطی کرتا ہو اور جو شخص بالمقابل لکھنے پر قادر نہیں وہ کیوں کہتا ہے کہ کتاب میں بعض فقرے بطور سرقہ ہیں اگر سرقہ سے یہ امر ممکن ہے تو کیوں وہ مقابل پر نہیں آتا اور اونمبری کی طرح بھاگا پھرتا ہے۔ اے نادان اول کسی تغیر کو عربی فصیح میں لکھنے سے اپنی عربی دانی ثابت کر پھر تیری نکتہ چینی بھی قابل توجہ ہو جاوے گی ورنہ بغیر ثبوت عربی دانی کے میری نکتہ چینی کرنا اور سبھی سرقہ کا الزام دینا اور کبھی صرفی محوی غلطی کا ۔ یہ صرف گوہ کھانا ہے۔ اسے جاہل بے حیا اول عربی بلغ فصیح میں کسی سورۃ کی تفسیر شائع کر پھر تجھے ہر ایک کے نزدیک حق حاصل ہوگا کہ میری کتاب کی غلطیاں نکالے یا مسروقہ قرار دے۔ جو شخص ہزار ہا جو عربی بلیغ فصیح کی لکھ چکا ہے نہ صرف بیہودہ طور پر بلکہ معارف حقیقی کے بیان میں، تو کیا صرف انکار سے اس کا جواب ہوسکتا ہے یا جب تک کام کے مقابل پر کام نہ دکھلایا جاوے۔ صرف زبان کی بک بک حجت ہو سکتی ہے اور اس بات سے کونسی لیاقت ثابت