نزول المسیح — Page 442
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۳۸ نزول المسيح عبارتیں طالمود کی پیش کی ہیں جو سہنسہ بغیر کسی تغیر تبدل کے انجیل میں موجود ہیں اور یہ عبارتیں صرف ایک دو فقرے نہیں ہیں بلکہ ایک بڑا حصہ انجیل کا ہے اور وہی فقرات اور وہی عبارتیں ہیں جو انجیل میں موجود ہیں اور اس کثرت سے وہ عبارتیں ہیں جن کے دیکھنے سے ایک محتاط آدمی بھی شک میں پڑے گا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور دل میں ضرور کہے گا کہ کہاں تک اس کو تو ارد پر حمل کرتا جاؤں اور اس یہودی فاضل نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ باقی حصہ انجیل کی نسبت اُس نے ثابت کیا ہے کہ یہ عبارتیں دوسرے نبیوں کی کتابوں میں سے لی گئی ہیں اور بعینہ وہ عبارتیں بائبل میں سے نکال کر پیش کی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ انجیل سب کی سب مسروقہ ہے اور یہ شخص خدا کا نبی نہیں ہے بلکہ ادھر اُدھر سے فقرے پھرا کر ایک کتاب بنالی اور اس کا نام انجیل رکھ لیا۔ اور اس فاضل یہودی کی طرف سے یہ اس قدر سخت حملہ کیا گیا ہے کہ اب تک کوئی پادری اس کا جواب نہیں دے سکا۔ یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے جو ابھی ملی ہے۔ اب چونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی استاد سے سبقا سبقا توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا اس لئے ایک شکی مزاج کے انسان کو اس شبہ سے نکلنا مشکل ہے کہ کیوں اس قدر عبارتیں پہلی کتابوں کی انجیل میں بلفظیا داخل ہو گئیں اور نہ صرف وہی عبارتیں جو خدا کی کلام میں تھیں بلکہ وہ عبارتیں بھی جو انسانوں کے کلام میں تھیں مگر اس سنت اللہ پر نظر کرنے سے جس کو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یہ شبہ بیچ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ باعث اپنی مالکیت کے اختیار رکھتا ہے کہ دوسری کتابوں کی بعض عبارتیں اپنی جدید وحی میں داخل کرے اس پر کوئی اعتراض نہیں چنانچہ براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ہر ایک پر ظاہر ہوگا کہ اکثر قرآنی آیتیں اور بعض انجیل کی آیتیں اور بعض اشعار کسی غیر ملہم کے اس وحی میں داخل کئے گئے ہیں جو زبر دست پیشگوئیوں سے بھری ہوئی ہے جس کے منجانب اللہ ہونے پر یہ قوی شہادت ہے کہ تمام پیشگوئیاں اُس کی آج پوری ہو گئیں اور پوری ہو رہی ہیں۔ غرض خدائے تعالیٰ کی یہ قدیم سے عادت ہے کہ وہ اپنی وحی کی عبارتوں اور مضمونوں کو دوسرے مقام سے بھی لے لیتا ہے اور پھر جاہلوں کو اعتراض پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ان دنوں میں ایک اور شخص نے تالیف کی ہے جس سے وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ توریت کی کتاب پیدائش جو گویا