نزول المسیح — Page 441
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۳۷ نزول المسيح اور معارف قرآنیہ کیونکر حاصل ہو سکیں اور لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا نا پیدا کنار دریا ہے جو اس کی نسبت امام شافعی رحمتہ اللہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے کہ لا یعلمه الا نبی یعنی اس زبان کو اور اس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا۔ اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہریک پہلو سے قدرت حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پورا احاطہ کرنا معجزات انبیاء علیہم السلام سے ہے۔ سیہ بات یا درکھنے کے لائق ہے کہ یہ نکتہ چینی مذکورہ بالا ایک ملھم کے مقابل پر کہ جو عربی نویسی میں بہت سے فقرے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بطور الہام کے پاتا ہے بالکل بے محل ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح پر بھی مدد دے کہ کبھی ایک مسلسل تقریر میں کسی کتاب کا کوئی عمدہ فقرہ بطور وحی اُس کے دل پر القا کر دے تو ایسا القاء اس عبارت کو اعجازی طاقت سے باہر نہیں کر سکتا۔ باہر تب ہو کہ جب دوسرا شخص اس کی مثل پر قادر ہو سکے مگر اب تک کون قادر ہوا؟ اور کس نے مقابلہ کیا۔ اور خود ادباء کے نزدیک اس قدر قلیل تو ارد نہ جائے اعتراض ہے اور نہ جائے شک ۔ بلکہ مستحسن ہے کیونکہ طریق اقتباس بھی ادبیہ طاقت میں شمار کیا گیا ہے اور ایک نجز بلاغت کی سمجھی گئی ہے۔ جو لوگ اس فن کے رجال ہیں وہی اقتباس پر بھی قدرت رکھتے ہیں ہر یک جاہل اور نجی کا یہ کام نہیں ہے۔ ماسوا اس کے ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارف حقائق قرآنی کواس پیرا یہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں۔ اور وہ بلاغت جوایک بیہودہ اور افوطور پر اسلام میں رائج ہو گئی تھی اس کو کلام الہی کا خادم بنایا جائے اور جبکہ ایسا دعویٰ ہے تو محض انکار سے کیا ہو سکتا ہے جب تک کہ اس کی مثل پیش نہ کریں یوں تو بعض شریر اور بد ذات انسانوں نے قرآن شریف پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ اس کے مضامین تو ریت اور انجیل میں سے مسروقہ ہیں اور اس کی امثلہ قدیم عرب کی امثلہ ہیں جو بالفاظها سرقہ کے طور پر قرآن شریف میں داخل کی گئی ہیں۔ ایسا ہی یہودی بھی کہتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود میں سے لفظ بلفظ پر ائی گئی ہیں ۔ چنانچہ ایک یہودی نے حال میں ایک کتاب بنائی ہے جو اس وقت میرے پاس موجود ہے اور بہت سی