نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 204

۲۰۴ نور الحق الحصة الثانية روحانی خزائن جلد ۸ كأس اليقين۔ ولا تركن إلى أخلاءِ دنياك، فإنهم يعادونك إذ الله پلا دے اور اپنے دنیا کے دوستوں کی طرف مت جھک کیونکہ جب خدا تعالیٰ تجھے دشمن عاداک فتبقى مخذولا مردودًا وتصير من الملومين۔ قرار دے گا تو وہ بھی تجھ سے دشمنی کریں گے تو پھر تو مخذول مردود رہ جائے گا اور ملامت زدہ ہو گا۔ و كَمُ مِن نَدامَى أدارُوا الكُؤوسا وفي آخِرِ الْأَمْرِ شَجُوا الرُّؤوسَا اور بہت سے حریفان شراب ہیں جو آپس میں پیالے پھیرتے تھے اور آخر میں ایک دوسرے کے سرتوڑے إِلَى مَا تُدَاجِي شريرًا عموسًا فَدَعْ وَاذْكُرَنُ قَمُطَرِيرًا عَبوسًا کہاں تک تو شریر ظالم سے مدارات کرے گا۔ سو چھوڑ اور اس دن کو یاد کر جو تمطر بر اور عبوس ہے ولا تَخْشَ قومًا يُبيدون جِسُمًا وَخَفْ قَهُرَ ربِّ يُبيدُ النفوسا اور ان لوگوں سے مت ڈر جو جسم کو مارتے ہیں اور اس رب سے ڈر جو جانوں کو ہلاک کرتا ہے ۔ فثبت من هذا التحقيق اللطيف أنّ لفظ النصف الذي جاء في سو اس تحقیق لطیف سے ثابت ہوا کہ جو لفظ نصف کا جو حدیث حديث الإمام التقى العفيف، ليس المراد منه كسوف الشمس في نصف امام باقر میں آیا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ سورج گرہن اس مہینہ کے نصف میں ہوگا ذلك الشهر الشريف كما فهمه بعض من ذوى الرأى الضعيف وأصروا | جیسا کہ بعض ضعیف الرائے آدمیوں نے سمجھا اور اس پر ایسا ہی عليه كالغبي السخيف والمعاند العتريف، وما فكروا كالعاقلين المنصفين، اصرار کیا کہ جیسے ایک نجی کم عقل یا معاند گستاخ اصرار کرتا ہے اور عقلمندوں اور منصفوں کی طرح نہیں سوچا بل المراد من قوله وتنكسف الشمس في النصف منه أن يظهر كسوف | بلکہ اس کا یہ قول کہ سورج گرہن اس کے نصف میں ہوگا اس سے یہ مراد ہے کہ سورج گرہن الشمس منصفًا أيام الانكساف، ولا يُجاوز نصف النهار من يوم ثان | ایسے طور سے ظاہر ہوگا کہ ایام کسوف کو نصفا نصف کر دے گا اور کسوف کے دنوں میں سے دوسرے دن کے نصف ۔