نورالحق حصہ دوم — Page 196
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۹۶ نور الحق الحصة الثانية من هذا الكلام عند الخواص والعوام، أن ما ذكر من الآية في هذه الآية فهو اس کلام سے خواص اور عوام پر ثابت ہو گیا کہ جو نشان خسوف کسوف قرآن شریف میں یعنی اس يتعلق بالدنيا لا بالآخرة، وعزوه إلى القيامة بناءً على الرواية خطأ في آیت میں لکھا ہے وہ دنیا سے تعلق رکھتا ہے نہ آخرت سے اور قیامت کی طرف اس کو منسوب کرنا اور کسی روایت کو پیش کرنا الدراية، بل هو خبر من أخبار آخر الزمان وقرب الساعة واقتراب الأوان خطا فی الدرایت ہے بلکہ وہ آخر زمانہ اور قرب قیامت کی خبروں میں سے ایک خبر ہے كما لا يخفى على المتدبّرين۔ ويؤيده ما جاء في الدارقطني عن محمد جیسا کہ تدبر کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ اور اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے جو دار قطنی نے امام محمد بن علی سے الباقر بن زين العابدين قال إن لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السماوات روایت کی ہے کہا ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں وہ کبھی نہیں ہوئے یعنی کبھی کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوئے جب والأرض، ينكسف القمر لأول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في سے کہ زمین آسمان پیدا کیا گیا اور وہ یہ ہے کہ رمضان کی رات کے اول میں ہی چاند کو گرہن لگنا شروع ہوگا اور اسی مہینہ النصف منه وأخرج مثله البيهقي وغيره من المحدثين۔ وقال صاحب کے نصف باقی میں سورج گرہن ہوگا اور اسی کی مانند بیہقی اپنی کتاب میں ایک حدیث لایا ہے اور ایسا ہی بعض دوسرے الرسالة الحشرية شاه رفيع الدين الدهلوى الذي هو جليل الشأن من محدث بھی اور صاحب رسالہ حشر یہ شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی بھی جو علماء اسلام سے ایک جلیل الشان عالم ہے اس علماء الملة إن جماعة من أهل مكة يعرفون المهدى بالتفرس التام، وهو نے کہا ہے کہ ایک جماعت اہل مکہ میں سے مہدی کو اپنی فراست سے پہچان لے گی اور وہ اس وقت رکن اور مقام میں يطوف بين الركن والمقام، فيبايعونه وهو كاره من بيعة الأنام وعلامة هذه طواف کرتا ہو گا تب اس حالت میں اس کی بیعت کریں گے اور وہ کراہت کرتا ہو گا کہ کوئی اس سے بیعت کرے اور اس القصة عند محدثى الملة أن القمر والشمس ينكسفان في رمضان خلا قبل | قصہ کی علامت جیسا کہ محدثین ملت نے روایت کی ہے یہ ہے کہ چاند اور سورج کو اس رمضان میں گرہن لگے گا جو