نورالحق حصہ دوم — Page 195
اسباب ۱۹۵ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الثانية باليقين لا بالشك، عِلله وأسبابه، وتفهمون مواقعه وأبوابه؟ وكيف يظهر تمہیں معلوم ہیں اور اس کے ظہور کے وقت اور ظہور کے دروازے تم نے سمجھے ہوئے ہیں أمر لازم للنظام بــع ظام بعد فك النظام والفساد التام؟ فإنكم تعلمون أن اور وہ امر جو نظام عالم کا ایک لازمہ ذاتی ہے کیونکر بعد فک نظام اور فک تام کے ظہور پذیر ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ الخسوف والكسوف ينشآن من أشكال نظامية وأوضاع مقرّرة منتظمة | خسوف اور کسوف اشکال نظامیہ سے پیدا ہوتے ہیں اور نیز ان کا پیدا ہونا اوضاع مقررہ على أوقات معينة وأيّام معروفة مبيّنة، فكيف يُعزَى وقوعها إلى ساعة لا منتظمہ پر موقوف ہے جو ان اوقات معینہ اور مشہور دنوں پر موقوف ہے جو فن ہیئت میں بیان کئے گئے ہیں پس کیونکر أنساب فيها ولا أسباب، ولا نظام ولا إحكام فانظروا إن كنتم ناظرين ثم اُن کو اس گھڑی کی طرف منسوب کیا جائے جس میں نہ نسب ہیں نہ اسباب نہ نظام نہ ترتیب نہ محکم کرنا سو تم سوچو من لوازم الكسوف والخسوف أن يرجع القمر والشمس إلى وضعهما اگر کچھ سوچ سکتے ہو پھر لوازم خسوف اور کسوف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج اور المعروف، ويعودا إلى سيرتهما الأولى، وفي هويتهما داخل هذا چاند اپنی اصلی وضع کی طرف رجوع کریں اور اپنی پہلی سیرت کی طرف عود کر آویں اور خسوف کسوف کی تعریف میں المعنى، وأما تكوير الشمس والقمر في يوم القيامة فهي حقيقة أخرى، ولا یہ بات داخل ہے کہ اپنی پہلی حالت کی طرف رجوع کریں مگر تکویر شمس و قمر جو قیامت میں ہوگی وہ اور حقیقت ہے يُرَدُّ فيهما نورهما إلى حالة أولى، بل لا يكون وقوعه إلا بعد فك النظام اور تکویر کے وقت نور شمس و قمر اپنی پہلی حالت کی طرف نہیں آئے گا بلکہ تکویر کا وقوع فک نظام والفساد التام وهدم هذا المقام، وما سمّاه الله خسوفا وكسوفا بل سماه اور فساد تام اور انہدام کلی کے وقت ہو گا اور اس کا نام خدا تعالیٰ نے خسوف کسوف نہیں رکھا بلکہ تكويرا أو كشط الأجرام، كما أنتم تقرأون في كلام الله العلام فثبت اس کا نام تکویر اور کشط رکھا ہے جیسا کہ تم خدا تعالیٰ کے کلام میں پڑھتے ہو۔ پس