نورالحق حصہ اوّل — Page 47
۴۷ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ يَفضُل عنهم ما يصرفون إلى غيرهم، فمن أين وكيف يُفعِمون وِعاء بچت نہیں ہوتی جو کسی دوسرے کو دیں پھر کہاں سے اور کیونکر نکھے لوگوں کے برتن بھر سکیں سو مرتد عیسائیوں البطالين؟ فلما رأوا أن أهل الإسلام لا يحملون أثقالهم ولا يبالون نے جب دیکھا کہ مسلمان ان کے بوجھوں کو اٹھا نہیں سکتے اور فقر و فاقہ کی پروا نہیں رکھتے تو إقلالهم، توجهوا إلى قسيسين مصطادين۔ شکا ر ڈھونڈھتے ہوئے پادریوں کی طرف دوڑے ۔ فاجتمعوا فى الكنائس من داء الذئب والخَوَى المذيب طمعًا سوگر جاؤں میں بھوک کی وجہ سے جو گلاتی جاتی تھی جمع ہوئے اور یہ سب کچھ ان کے مالوں کے لالچ اور في أموالهم، وطموحا إلى إقبالهم، وأخذوا يسرونهم بإغلاظ الكلام ان کے اقبال پر نظر دوڑانے سے ظہور میں آیا اور پھر انہوں نے شروع کیا کہ آنحضرت خیر الا نام کے حق میں سخت في شأن خير الأنام، ويُطْرِفون فى التوهينات واختراع الاعتراضات، اور نئے نئے درشت کلمے استعمال کر کے پادریوں کو خوش کرتے اور نئی نئی قسم کی اہانتیں اور اختراع اور اعتراض ان ليروهم أنهم متنفرين من الإسلام وفي التنصر متشددين، وليحصل کے لئے بناتے تاکہ ان کو دکھلا دیں کہ وہ اسلام سے متنفر اور عیسائی مذہب میں بڑے پکے ہیں اور تا کہ ان بے ادبی کی لهم قُربتهم بوسيلتها وليقضوا أوطارهم بتوسطها ويكونوا في أعينهم باتوں سے ان کے خاص مصاحب بن جائیں اور ان کے توسط سے اپنی حاجتیں پوری کریں اور ان کی آنکھوں میں صالحين متنصّلين۔ و کذلک صابت سهامهم و حصل مرامهم، فترى | پر ہیز گار اور صالح دکھائی دیں اسی طرح ان مرتدوں کے تیر نشانوں پر لگے اور ان کی مرادیں بر آئیں پس تو دیکھتا كيف اصطادوا أكابرهم ونهبوا أموالهم وخلوا جُهّالهم، فأحبوهم (٣٥) ہے کہ کیونکر انہوں نے اپنے بڑوں کو شکار کیا اور کیونکر ان کے جاہلوں کو دھو کے دیئے سو وہ ان سے پیار کرنے لگے اور وأحسنوا إليهم كأنهم فوج المتقين وفرضوا لهم في صدقاتهم حصّةً ان پر احسان کئے گویا یہ ایک پر ہیز گاروں کی فوج ہے۔ اور ان کے لئے اپنے خیراتی مالوں میں حصے ٹھہرا دیئے