نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 33

۳۳ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ بالأخلاق، وما زلتِ آخذةً نفسك بالرحم والإشفاق، ولا ترضى جن پر داغ عیب ہے اور رحم اور شفقت کو تو نے اپنے نفس کے لئے ایک خصلت لازمی ٹھہرا دی ہے اور ظلم کرنے والوں بجور الجائرين۔ کے ظلم پر راضی نہیں ۔ هذا خُلقک، و نحن - مع ظل حمایتک - نُلدَعُ مِن شرّ بعض (۳) یہ تیرا خلق ہے اور ہم باوجود ظل حمایت تیری کے بعض دشمنوں کے نیش شرارت سے نیش زدہ اور المعادين، ونُعَضُّ من أنياب العاصين، ويصول علينا كلُّ ضُلّ بن ضُلّ ان کاٹنے والوں کے دانتوں سے کائے جاتے ہیں اور ہر ایک ایسا شخص ہم پر حملہ کرتا ہے جس کے باپ دادوں کو کوئی نہیں پہچانتا ويسُبُّ نبيَّنا الكريم كلُّ جهول مهين، ويسعى أن نُعَدّ من الباغين۔ اور ہر ایک جاہل ذلیل ہمارے نبی کریم کی اہانت کر رہا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ہم با غیوں سے گنے جائیں۔ وأما تفصيل هذا الـمـجـمـل فاعلم يا قيصرة۔ تزايد إقبالك اور اگر اس مجمل کی تفصیل چاہو تو اے قیصرہ تیرا اقبال زیادہ ہو اور خدا تیری و بارک الله فی دنیاک و أصلح مالك۔ أن رجلا من الذين ارتدوا من دنیا میں برکت دے اور تیرا انجام بھی بخیر کرے۔ تجھے معلوم ہو کہ ایک شخص نے ایسے لوگوں میں سے جو اسلام سے دين الإسلام ودخلوا في الملة النصرانية، أعنى النصراني الذي يُسمّى نکل کر عیسائی ہوگئے ہیں یعنی ایک عیسائی جو اپنے تئیں پادری عماد الدین کے نفسه القسيس عماد الدين، ألف كتابًا في هذه الأيام لِخَدع العوام، وسمّاه نام سے موسوم کرتا ہے ایک کتاب ان دنوں میں عوام کو دیکھو کہ دینے کے لئے تالیف کی ہے اور اس کا نام تو زین الاقوال توزين الأقوال، وذكر فيه بعض حالاتی بافتراء بحتِ لا أصل له، وقال إن | رکھا ہے اور اس میں ایک خالص افترا کے طور پر میرے بعض حالات لکھے ہیں اور بیان کیا ہے کہ یہ شخص ایک هذا الرجل رجل مفسد ومن أهل العداوة، وإنى وجدت في طريقة مشيه مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے اور مجھے اس کے طریق چال چلن میں