نورالحق حصہ اوّل — Page xxvi
یہ رسالہ رؤسائے امرتسر اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور خود مولوی رسل بابا صاحب کو رجسٹری کر کے بھجوایا گیا مگر مولوی رسل بابا صاحب نے اپنے ہزار روپیہ انعام کے اعلان کا پاس نہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر کے اپنا کذب اور دروغ ثابت کر دیا۔مولوی رسل بابا صاحب امرتسری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشد ترین مخالفوں میں سے تھے۔آپ نے اپنی کتاب انجام آتھم میں ان کا شمار نو مشہور مفسد مخالفین میں کیا ہے۔اور وہ آخر کار ۸؍ دسمبر ۱۹۰۲ء کو طاعون سے امرتسر میں وفات پا گئے۔سِرّالخلافۃ یہ کتاب بھی فصیح و بلیغ عربی زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تصنیف فرمائی۔اور جولائی ۱۸۹۴ء میں شائع ہوئی۔اِس کتاب میں آپ نے مسئلہ خلافت پر جو اہلِ سُنّت اور شیعوں میں صدیوں سے زیر بحث چلا آتا ہے سیر کن بحث کی ہے۔اور دلائل قطعیہ سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اﷲ عنہم اگرچہ چاروں خلیفہ برحق تھے لیکن حضرت ابوبکرؓ سب صحابہ سے اعلیٰ شان رکھتے تھے اور اسلام کے لئے وہ آدم ثانی تھے۔اور بنظرِ انصاف دیکھا جائے تو آیت استخلاف کے حقیقی معنوں میں وہی مصداق تھے۔چنانچہ اِس امر کو آپ نے اِس کتاب میں شرح و بسط سے ذکر فرمایا ہے۔حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ پر شیعہ صاحبان کی طرف سے غصب وغیرہ کے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کے مدلل اور مسکت جوابات بھی دیئے ہیں۔نیز ان کے اور باقی صحابہؓ کے فضائل کا بھی ذکر فرمایا ہے اور شیعوں کی غلطی کو قرآنی آیات کی روشنی میں الم نشرح کیا ہے۔پھر اہل سنت اور شیعوں کے آپس کے جھگڑوں کا جن میں اکثر لڑائی اور مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے ذکر کر کے فیصلہ کا ایک یہ طریق پیش کیا ہے کہ ہم دونوں فریق ایک میدان میں حاضر ہو کر خدا تعالیٰ سے نہایت تضرع اور الحاح سے دُعا کریں۔اور لعنۃ اﷲ علی الکاذبینکہیں۔پھر اگر ایک سال تک فریق مخالف پر میری دُعا کا اثر ظاہر نہ ہو تو میں ہر عذاب اپنے لئے قبول کروں گا۔اور اقرار کروں گا کہ مَیں صادق نہیں۔اور علاوہ ازیں ان کو پانچ ہزار روپیہ بھی انعام دوں گا۔اور یہ روپیہ اگر چاہیں تو میں گورنمنٹ کے خزانے میں جمع کرا سکتا ہوں یا جس کے پاس وہ چاہیں۔لیکن اس مقابلہ کے لئے جو حاضر ہو وہ عام آدمی نہ ہو۔اور ایسے شخص کے لئے یہ ضروری ہو گا کہ پہلے وہ میرے