نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page xxv

جمع کرا کر ان کی دستی تحریر کے ساتھ ہم کو اطلاع دیں جس تحریر میں ان کا یہ اقرار ہو کہ ہزا3ر روپیہ ہم نے وصول کر لیا اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد یعنی راقم ھٰذا کے غلبہ ثابت ہونے کے وقت یہ ہزار روپیہ ہم بلاتوقف مرزا مذکور کودے دیں گے اور رسل بابا کا اس سے کچھ تعلق نہ ہو گا‘‘ (اتمام الحجۃ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۳۰۵) اور فیصلہ کرنے والے کے بارہ میں فرمایا کہ ہم ’’اس بات پر راضی ہیں کہ شیخ محمد حسین بطالوی یا ایسا ہی کوئی زہرناک مادہ والا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر ہو جائے۔فیصلہ کے لئے یہی کافی ہو گا کہ شیخ بطالوی مولوی رسل بابا صاحب کے رسالہ کو پڑھ کر اور ایسا ہی ہمارے رسالہ کو اوّل سے آخر تک دیکھ کر ایک عام جلسہ میں قسم کھا جائیں اور قسم کا یہ مضمون ہو کہ اے حاضرین بخدا میں نے اوّل سے آخر تک دونوں رسالوں کو دیکھا اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ درحقیقت مولوی رسل بابا صاحب کا رسالہ یقینی اور قطعی طور پر حضرت عیسٰیؑ کی زندگی ثابت کرتا ہے اور جو مخالف کا رسالہ نکلا ہے اس کے جوابات سے اس کے دلائل کی بیخ کنی نہیں ہوئی۔اور اگر مَیں نے جھوٹ کہا ہے یا میرے دل میں اس کے برخلاف کوئی بات ہے تو میں دعا کرتا ہوں کہ ایک سال کے اندر مجھے جذام ہو جائے یا اندھا ہو جاؤں یا کسی اور بُرے عذاب سے مر جاؤں۔فقط۔تب تمام حاضرین تین مرتبہ بلند آواز سے کہیں کہ آمین آمین آمین۔اور جلسہ برخاست ہو۔پھر اگر ایک سال تک وہ قسم کھانے والا ان بلاؤں سے محفوظ رہا تو کمیٹی مقرر شدہ مولوی رسل بابا صاحب کا ہزا3ر روپیہ عزّت کے ساتھ اس کو واپس دے دی گی۔تب ہم بھی اقرار شائع کریں گے کہ حقیقت میں مولوی رسل بابا نے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی ثابت کر دی ہے۔مگر ایک برس تک بہرحال وہ روپیہ کمیٹی مقرر شدہ کے پاس جمع رہے گا۔اور اگر مولوی رسل بابا صاحب نے اس رسالہ کے شائع ہونے سے دو ہفتہ تک ہزار روپیہ جمع نہ کرا دیا تو ان کا کذب اور دروغ ثابت ہو جائے گا۔‘‘ (اتمام الحجۃ۔روحانی خزائن جلد۸صفحہ ۳۰۵،۳۰۶)