نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page xxvii

اس رسالہ کی طرح عربی زبان میں رسالہ لکھے تا معلوم ہو کہ وہ اہلِ علم و فضل سے ہے۔( ترجمہ۔سرالخلافہ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۳۳۵ تا۳۳۷ ملخصًا) مگر اہلِ تشیع کی طرف سے صدائے برنخواست۔نیز آپ نے اس کتاب میں عقیدۂ ظہور مہدی کا ذکر کر کے اپنے دعوئ مہدویت پر شرح و بسط سے بحث کی ہے۔الغرض مسئلہ خلافت پر یہ ایک بیش بہا کتاب ہے۔جس کی قدر و قیمت کا اندازہ اس کے پڑھنے سے ہی لگ سکتا ہے۔اس کتاب کے عربی زبان میں لکھنے کا ایک مقصد حضور علیہ السلام نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ :۔’’یہ کتاب شیخ محمد حسین بطالوی اور دوسرے علماء مکفرین کے الزام اور افحام اور ان کی مولویّت کی حقیقت کھولنے کے لئے بوعدۂ انعام ستائیس روپیہ شائع ہوئی ہے۔ستائیس دن بالمقابل رسالہ بنانے کے لئے مہلت دی گئی ہے اور یہ ستائیس دن روز اشاعت سے محسوب ہوں گے۔‘‘ (ٹائٹل پیج سرالخلافہ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ۳۱۵) اور فرمایا ’’آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اگر آپ کو علم عربی میں کچھ بھی دخل ہے۔ایک ذرہ بھی دخل ہے تو اب کی دفعہ تو ہرگز مُنہ نہ پھیریں۔۔۔پچیس جولائی ۱۸۹۴ء ؁ تک اس درخواست کی میعاد ہے۔اگر آپ نے ۲۵؍ جولائی ۱۸۹۴ء ؁تک یہ درخواست چھاپ کر بذریعہ کسی اشتہار کے نہ بھیجی تو سمجھا جائے گا کہ آپ اس سے بھاگ گئے۔‘‘ (سرّ الخلافہ۔روحانی خزائن جلد۸صفحہ۴۱۸) مگر جس طرح وہ اور دوسرے مکفر مولوی اس سے پہلی کتابوں کرامات الصادقین اور نور الحق وغیرہ کے مقابلہ میں جن کے ساتھ ہزارہا روپیہ کا انعام مقرر تھا کتابیں لکھنے سے عاجز آ گئے۔اسی طرح رسالہ سرالخلافہ کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کرنے سے اپنا عاجز ہونا ثابت کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور عربی زبان روحانی خزائن جلد ہفتم کے پیش لفظ میں ہم بہ تفصیل لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عربی زبان کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطورنشان دیا گیا تھا۔اور آپ نے جس قدر کتابیں عربی زبان میں