نورالحق حصہ اوّل — Page xxiii
سو اِس مشہور و معروف پیشگوئی کے مطابق جو مختلف زمانوں میں کتابوں میں شائع ہوتی رہی۔اور جو شیعہ اور سنی دونوں کی کتب حدیث میں ظہور مہدی کی علامت قرار دی گئی تھی ۲۰ ؍مارچ ۱۸۹۴ء کو چاند گرہن اور ۶؍ اپریل ۱۸۹۴ء کو سورج گرہن ہوا۔اور جیسا کہ آپ نے دُعا کی تھی۔اﷲ تعالیٰ نے آسمان سے نصرت نازل فرمائی اور آپ کی صداقت پر چاند اور سُورج کو دو آسمانی شاہد بنا دیا۔اور اس نشان کا ظہور بالکل یوم بدر کے نشان کی طرح ہوا جسے قرآن مجید میں یوم الفرقان کا نام دیا گیا ہے۔یہ چاند اور سورج کا گرہن جسے ہزار سال سے صادق مہدی کی شناخت کا معیار قرار دیا جاتا تھا۔جب ظاہر ہوا تو مولویوں نے ہدایت حاصل کرنے کی بجائے از راہِ تعصّب قسم قسم کے اعتراضات شروع کر دیئے۔کبھی حدیث کو ضیعف اور مجروح قرار دیا۔اور کبھی کہا کہ اس کے راویوں میں سے بعض راوی فاسق اور مبتدع اور وضاع ہیں۔اور کبھی کہا کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن نہیں ہوا۔تب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نور الحق حصّہ دوم تحریر فرمایا۔جس میں آپ نے اس نشان کا ایک بے نظیر نشان ہونا ثابت کیا۔اور علماء کے ان تمام اعتراضات کے جوابات معقول اور مدلل طریق سے بہ شرح و بسط تحریر فرمائے اور فرمایا کہ حدیث متعلقہ خسوف و کسوف ایک نہایت عظیم الشان غیبی خبر پر مشتمل ہے۔اور پہلے زمانوں میں کسی مدعی مہدویت یا ماموریت کے لئے ایسا خسوف و کسوف کبھی بطور نشان ظاہر نہیں ہوا۔اور میں ایسے شخص کو ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا جو یہ ثابت کر دے کہ ماہ رمضان کی انہی تاریخوں میں جو حدیث میں مذکور ہیں کسی مدعی مہدویت اور ماموریت کے لئے خلق آدم سے لے کر آج تک کبھی ایسا خسوف کسوف ہوا ہے۔نیز آپ نے اس شخص کے لئے بھی ایک ہزار روپیہ انعام مقرر فرمایا جو کتب لغت اور اشعار عرب وغیرہ سے یہ ثابت کرے کہ پہلی تاریخ کے چاند کو قمر کہا جاتا ہے۔مگر ان انعامات کو حاصل کرنے کے لئے کسی کو جرأت نہ ہوئی۔اس رسالہ کے ٹائیٹل پیج پر زیر عنوان ’’تنبیہ‘‘ یہ بھی تحریر فرمایا کہ :۔’’یہ کتاب مع پہلے حصّہ اسکے کے پادری عماد الدین اور شیخ محمد حسین بطالوی صاحب اشاعۃ السنّۃ اور ان کے انصار و اعوان کی حقیقت علمیہ ظاہر کرنے کے لئے تیار ہوئی ہے۔جس کے ساتھ پانچ ہزار روپیہ انعام کا اشتہار ہے۔اگر چاہیں تو روپیہ پہلے جمع کرا لیں۔اور اگر بالمقابل کتاب لکھنے کے لئے تیار ہوں اور انعامی روپیہ جمع کرانا چاہیں تو ایسی درخواست کی میعاد اخیر جون ۱۸۹۴ء تک ہے۔بعد اس کے سمجھا جائے