نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page xxiv

گا کہ بھاگ گئے اور کوئی درخواست منظور نہیں ہو گی۔‘‘ (ٹائیٹل پیج۔نورالحق حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۱۸۷) اور اسی طرح ’’اتمام الحجّۃ‘‘ میں بھی رسالہ نور الحق سے متعلق لکھا:۔’’ہماری طرف سے تمام پادریان اور شیخ محمد حسین بطالوی اور مولوی رسل بابا امرتسری اور دوسرے ان کے سب رفقاء اس مقابلہ کے لئے مدعو ہیں اور درخواست مقابلہ کے لئے ہم نے ان سب کو اخیر جون ۱۸۹۴ء تک مہلت دی ہے اور رسالہ بالمقابل شائع کرنے کے لئے روزِ درخواست سے تین مہینہ کی مہلت ہے۔‘‘ (اتمام الحجۃ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۳۰۴) وہ جون کا مہینہ گذر گیا مگر نہ بطالوی اور نہ اُن کے رفقاء میں سے اور نہ پادریوں میں سے کسی کو مقابلہ میں آنے کی طاقت ہوئی۔اور نہ ہی دوسرے انعامات کو حاصل کرنے کے لئے سامنے آنے کی جرأت۔اور اپنی خاموشی سے انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ درحقیقت عالم نہیں بلکہ عربی زبان سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہیں۔اتمام الحُجَّۃ یہ رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی رسل بابا امرتسری پر اتمام حُجّت کرنے کے لئے جون ۱۸۹۴ء میں شائع کیا۔اِس رسالہ کا کچھ حصّہ عربی میں ہے اور کچھ اُردو میں۔اس کی تالیف کا باعث مولوی رسل بابا امرتسری کا رسالہ حیات المسیح ہوا۔جس میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے آسمان پر بجسمہ العنصری زندہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رسالہ میں قرآن مجید اور احادیث اور ائمہ اور سلف صالحین کے اقوال سے مسیحؑ کی وفات پر مختصراً لیکن جامع بحث کی ہے۔مولوی مذکور نے اپنے رسالہ میں ان کے دلائل کو ردّ کرنے والے کے لئے ایک ہزار روپیہ انعام دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔اس کا ذکر کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا:۔’’کہ وہ ماہ جون ۱۸۹۴ء ؁کے اخیر تک ہزار3 روپیہ خواجہ یوسف شاہ صاحب اور شیخ غلام حسن صاحب اور میر محمود شاہ صاحب کے پاس یعنی بالاتفاق تینوں کے پاس