نورالحق حصہ اوّل — Page xxii
گناہ کی باتوں سے رک جائے۔‘‘( نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۴۷ تا۵۰ملخصًا) اِس کتاب کے ایک قصیدہ میں آپ نے صلیبی فتنہ کے بداثرات سے محفوظ رہنے کیلئے اور اس کی تباہی کے لئے ایک درد انگیز دُعا بھی فرمائی ہے۔(نورالحق حصہ اول روحانی خزائن جلد۸صفحہ ۱۲۷ و ۱۲۸) نور الحق حصّہ دوم نور الحق حصّہ اوّل کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت عاجزانہ رنگ میں اﷲ تعالیٰ سے ایک لمبی دُعا کی ہے۔اِس میں آپ اﷲ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر عرض کرتے ہیں:۔’’اے خدا !۔۔۔کیا مَیں تیری طرف سے نہیں؟ اس وقت لعنت و تکفیر کی کثرت ہو گئی۔۔۔۔فافتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفاتحین۔اے خُدا تو آسمان سے میرے لئے نصرت نازل فرما۔۔۔اور مصیبت کے وقت اپنے بندے کی مدد کے لئے آ۔مَیں کمزوروں اور ذلیلوں کی طرح ہو گیا اور قوم نے مجھے دھتکار دیا۔اور موردِ ملامت بنایا۔پس تو میری ایسی نصرت فرما جیسی تُو نے اپنے رسُولِ مقبول صلی اﷲ علیہ وسلم کی بدر کے دن فرمائی۔واحفظنا یا خیر الحافظین انک الرب الرحیم کتبت علٰی نفسک الرحمۃ فاجعل لنا حظًا منھا وارالنصرۃ وارحمنا و تب علینا و انت ارحم الراحمین۔‘‘ (نورالحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۱۸۴ ترجمہ از عربی عبارت ) اِس دُعا پر بمشکل ایک ماہ گذرا ہو گا کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کی یہ دُعا قبول فرمائی اور سُورج چاند کا گرہن جس کی احادیث نبویہ میں خبر دی گئی تھی کہ سچّے مہدی کے ظہور کی یہ علامت ہو گی کہ ماہ رمضان میں تیرھویں رات کو اس کے پہلے حصّہ میں چاند گرہن اور ۲۸؍رمضان کو سُورج گرہن ہو گا۔اور قرآن مجید کی آیت 3میں بھی اسی گرہن کی طرف اشارہ تھا۔اور اسی طرح انجیل متی اور یوئیل نبی کی کتاب وغیرہ اور صلحائے امت محمدؐیہ کی کتب میں بھی اس کا تذکرہ پایا جاتا تھا۔اور حضرت نعمت اﷲ ولی اور حافظ محمد صاحب لکھو کے والے نے صاف طور پر اس گرہن کو مہدی کے ظہور کی علامت قرار دیا تھا۔اور ملتان کے ایک مشہور ولی کامل حضرت شیخ محمد عبدالعزیزپرہاوری نے تو از رُوئے الہام یہ خبر بھی دے دی تھی کہ یہ نشان ۱۳۱۱ھ میں ظاہر ہو گا۔(بدر ۱۴ ؍ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۸)