نورالحق حصہ اوّل — Page xxi
مولوی اور علماء اسلام میں سے ہونا مشہور کرتے تھے اور اِسی وجہ سے انگریز پادریوں کی نظر میں بھی عزّت سے دیکھے جاتے اور ان کی خوب خاطر و مدارات کی جاتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے جواب میں یہ کتاب عربی زبان میں لکھی۔اور ان کو چیلنج کیا کہ اگر وہ اپنے اس دعویٰ میں سچے ہیں کہ وہ عالم ہیں اور عربی زبان جانتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں عربی زبان میں ایسی ہی کتاب لکھیں اور ان پادریوں کے نام بھی اس کتاب میں درج کر دیئے (صفحہ ۱۵۷) بصورت مقابلہ ان کے لئے پانچ ہزار روپیہ انعام دینے کا بھی وعدہ فرمایا۔اور لکھا کہ ان کی درخواست پر ہم یہ روپیہ جہاں وہ چاہیں جمع کرا دیں گے۔مگر ساتھ ہی آپ نے یہ بھی اعلان فرما دیا کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اس مقابلہ کے لئے تیار نہیں ہو گا۔اور یہ ذلیل و رُسوا ہوں گے اور شکست کھائیں گے۔اور تمام دُنیا پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ لوگ عربی زبان سے بالکل جاہل ہیں اور ان کے عالم اور عربی دان ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس شخص کو جو عربی زبان سے بالکل جاہل ہو قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔جس شخص کی فصاحت و بلاغت کا عرب کے بڑے بڑے ادیب اور شعراء جیسے لبید بن ربیعہ وغیرہ اور عرب کے فصحاء و بلغاء سِکّہ مان چکے ہیں۔اور اس کی فصاحت و بلاغت پر کسی عرب نے کسی زمانہ میں بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔پھر آپ نے اسی کتاب میں پادری مذکور کی پولیٹیکل نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے حکومت کو واشگاف الفاظ میں یہ مشورہ بھی دیا کہ’’ یہ بُھوکے ننگے لوگ جو اپنا گذارہ نہیں کر سکتے تھے اور نہ مسلمان ان کے کھانے پینے کا انتظام کر سکتے تھے دنیاوی طمع اور مال و زر اور اچھے کھانوں کے لالچ سے گرجوں میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور اپنے آپ کو اسلام سے متنفّر ثابت کرنے کے لئے پاکوں کے سردار آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر زبانِ طعن دراز کرتے اور گالیاں دیتے اور بدزبانی کرتے ہیں۔اور بے کار رہ کر اپنے نفس کی خواہشات پورا کرنا چاہتے ہیں۔اور ان کے اکابر نے اُنہیں فارغ بٹھا رکھا ہے۔اور اس قسم کی بد زبانی کے گناہوں سے اُنہیں روکنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کرتے۔اُنہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ انہیں ایسی خدمات دی جانی چاہئیں جو اُن کی قوم اور پیشہ کے لحاظ سے مناسب ہوں۔اُن میں سے جو نجّار ہے اُسے تیشہ دیا جائے اور دھننے والے کو ایک مضبوط دھنکی (پنجن) اور نائی کو نشتر اور اُسترا۔اور تیلی کو ایک بڑا سا کولہو سُپرد کیا جائے۔تا ہر شخص ان میں سے اپنے کام میں مشغول ہو جائے جس کا وہ اہل ہے۔اور تاکہ اس انتظام سے وہ فضول گوئی اور بے ہودہ اور