نورالحق حصہ اوّل — Page xx
اِس کتاب میں اس نے قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر اعتراضات کئے اور لکھا کہ وہ فصیح و بلیغ نہیں اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات مقدس پر نہایت رکیک اور بودے اور شرمناک حملے کئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف گورنمنٹ کو اُکسایا اور لکھا کہ یہ شخص ایک مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے اور مجھے اس کے طور و طریق میں بغاوت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔اور ساتھ ہی جہاد کے مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ قرآن مخالفینِ اسلام سے ہر حال میں جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے۔اِس لئے جب اسے طاقت حاصل ہو گی تو ضرور بغاوت کرے گا۔جب یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچی تو آپ نے اس کے جواب میں یہ رسالہ نور الحق حصّہ اوّل لکھا۔اور پادری مذکور کے جملہ اعتراضات کے مدلل اور مسکت خصم جوابات دیئے۔جہاد جہاد سے متعلق آپ نے اس رسالہ میں ایک نہایت جامع مانع نوٹ لکھا جو ہر زمانہ کے مسلمانوں اور اعداء اسلام کے لئے بھی اسلامی جہاد کی حقیقت سمجھنے کے واسطے شمع کا حکم رکھتا ہے۔حضورؑ فرماتے ہیں:۔’’جاننا چاہئے کہ قرآن شریف یُونہی لڑائی کے لئے حکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کاربند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور اُن لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو اُن کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اﷲ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔یہ وہ لوگ جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنوں پر واجب ہے جو اُن سے لڑیں اگر وہ باز نہ آئیں۔‘‘ (نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۶۲) عربی زبان میں تالیف کی وجہ اس کتاب کے عربی زبان میں لکھنے کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ یہ مرتدین از اسلام پادری لوگ اپنا