نورالحق حصہ اوّل — Page 172
۱۷۲ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى لا أثر يومئذ معه من البشرية، مع كونه مجسما ومركبًا من العظم قیامت کے دن اس کے ساتھ بشریت میں سے کوئی صفت نہ ہو گی یعنی سراسر وہ خدا ہی ہو گا باوجود واللحم كالآدميين۔ هذه عقيدتهم وعقيدة الذين غلسوا قبلهم في اس کے جو اس کے ساتھ جسم بھی ہوگا اور ہڈیاں اور گوشت بھی۔ جیسا کہ انسانوں میں ہوتا ہے یہ ان کا عقیدہ ہے مبادى الأيام أمام أعين الإسلام، ثم فى هذا الزمن انفتحت أعينهم اور ان لوگوں کا عقیدہ جو ان سے پہلے شب تاریک میں چلے اور اسلام کی آنکھوں کے آگے اپنا فساد ظاہر کیا پھر وقلت ظلمتهم بما شاعت فيهم العلوم العقلية والحكم الفلسفية جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں اس زمانہ میں اُن کی آنکھیں کھلیں اور تاریکی کچھ کم ہوئی کیونکہ اس زمانہ میں علوم عقلیہ فرأوا سوءة مذهبهم واستحالة مطلبهم، فبادروا إلى التأويلات اور حکم فلسفیہ شائع ہو گئے سو انہوں نے اپنے مذہب کے اور اپنے مطالب کے محالات کو مشاہدہ کیا پس وہ مخافة من الملامات والتشنيعات، وتخوفا من كلمات تاویلات کی طرف دوڑے تا ملامتوں اور تشنیعوں اور ٹھٹھا کرنے والوں سے المستهزئين لأنّ الفطرة الإنسانية تأبى من قبول هذه العقيدة بچاؤ کریں کیونکہ انسانی فطرت اس الدنية، والخرافات الرديّة الّتي هي بديهة البطلان عند الرجال | اور خرافات رڈیہ کے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے کیونکہ وہ مردوں اور عورتوں کے والنسوان، خصوصًا في هذه الأيام التى مالت العقول السليمة إلى اپنا نزدیک بدیہی البطلان ہے خصوصاً اس زمانہ کمینه عقیده میں جبکہ عقول سلیمہ التوحيد، وهبتُ من كل طرف رياح التنزيه لله الوحيد، وكسدت توحید کی طرف مائل ہو گئی ہیں اور ہر ایک طرف سے تنزیہ الہی کی ہوا چل رہی ہے اور مشرکوں کے (۱۳۱) سُوقُ المشركين۔ فأنّى لهم أن يخفوها بعد إظهارها ونشرها وإزاحة | بازار کسمپرسوں کا مصداق ہو گئے ہیں۔ مگر اب یہ کہاں ممکن ہے کہ وہ لوگ ان عقائد کو ان کے شائع ہونے کے بعد پوشیدہ