نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 173

۱۷۳ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ قشرها؟ أيُخفون أمرًا أُشيع فى البلاد والأرضين؟ ومثلُ الذين بدلوا کر سکیں کیا وہ ایسے امر کو پوشیدہ کر سکتے ہیں جو ملکوں اور زمینوں میں مشہور ہو گیا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے الطيبات بالخبيثات وتركوا الحسنات وبادروا إلى السيئات ولا اور طیبات کو خبیثات کے ساتھ بدل ڈالا اور بدیوں کی طرف دوڑے يتقون الله في إخفاء العثرات وتأويل الخرافات، كمثل رجل كان اپنی لغزشوں کو پوشیدہ کرنے اور خرافات کی تاویل میں خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ان کی مثال يأكل البراز من مدة مديدة، ويحسبه من أغذية لطيفة جديدة، ولا ایسی ہے جیسے اس شخص کی جو نجاست کھایا کرتا تھا اور ایک مدت سے اس کا یہی کام تھا اور اس نجاست کو اغذ یہ لطیفہ جدیدہ يتنبه على أنه رجس وقذر لا من أطعمة الآدميين، فلاقاه رجل لطيف میں سے سمجھتا تھا اور اس بات سے خبر دار نہیں تھا کہ یہ تو پلیدی اور گوہ ہے نہ کہ انسانوں کی غذا۔ پس ایک شخص ایسا نظيف ومع ذلك زکی ،وظريف، فرآه يأكل الغائط فأَنَّبَه كما يؤنب اس کو ملا جو باریک بین اور پاک طبع تھا اور نیز زیرک اور ظریف بھی تھا پس اس پاک طبع نے اس شخص کو دیکھا الحَكَمُ المايط، وقال ما تفعل ذلك؟ أتأكل البراز يا براز الخبيثين؟ جو گوہ کھارہا ہے تب اس نے اس کو ایسی سرزنش کی جیسے کہ ایک حاکم ظالم کو سرزنش کرتا ہے اور کہا کہ ایسا مت کر کیا تو گوہ فتندم و فكّر فى نفسه كيف يزيح برص هذه الملامة، وكيف ينجو کھاتا ہے اے خبیثوں کے گوہ۔ پس وہ شرمندہ ہوا اور اپنے دل میں سوچنے لگا کہ اس ملامت کے داغ کو کیونکر دور کروں شناعة الندامة، فنَحَتَ جوابا كالذين يرون أجاجَهم كماء معين من اور اس ندامت کے عیب سے کیونکر نجات پاؤں پس اس نے ان لوگوں کی طرح جو تکلف سے اپنے شور آب کو عمدہ اور وقال إني ما آكل البراز، وما كنتُ أن أحتاز فما أبالى الإفزاز، وما میٹھا پانی ظاہر کرنا چاہتے ہیں ایک جواب گھڑا اور کہا کہ میں گوہ نہیں کھاتا اور نہ اس کو اکٹھا کرتا ہوں سوئیں کسی کے ڈرانے أو عزتُ إلى هذا الأمر الذى هو أكبر المكروهات، وإن هو کی پرواہ نہیں رکھتا اور میں نے اس امر کی طرف جو اکبر المکروہات ہے ہرگز پیش قدمی نہیں کی اور یہ صرف