نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 164

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۶۴ نور الحق الحصة الاولى العنة الله والملائكة والناس أجمعين۔ میں کہہ چکے ہیں اور اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت اور نیز اس کے تمام فرشتوں اور آدمیوں کی ہے۔ فَلْيَقُلُ القَوْمُ كلهم آمين آمين آمين۔ پس چاہیے کہ ساری قوم کہے آمین آمین آمین القصيدة في فضائل القُرآن وشأن كتاب الله الرّحمن قصیدہ قرآن کے فضائل اور کتاب اللہ کی شان میں لَمَّا أَرَى الفرقانُ مِي سَمَه تردَّى مَن طَغَى مَن كان نابغ وقتِه جاء المواطن الثعا جب قرآن نے اپنی شکل دکھلائی تو ہر یک طافی نیچے گر گیا جو شخص اپنے وقت کا فصیح اور جلد گو تھا وہ گند زبان ہو کر میدان میں آیا وإذا أرى وجهَا بِأَن وَارِ الجَمال مصَبَّعًا فَدَرَى المعارض أنه ألغا الفصاحة أو لغا تو معارض سمجھ گیا کہ وہ قرآن کے معارضہ میں فصاحت بلاغت سے دور اور جب قرآن نے اپنا ایسا چہرہ دکھایا جو انوار جمال سے رنگین تھا ہے اور لغو بک رہا ہے من كان ذا عين النهى فإلى محاسنه صغى إلا الذى من جهله أبغى الضلالة أو بغى جو شخص عقلمند تھا وہ قرآن کے محاسن کی طرف مائل ہو گیا ہاں وہ باقی رہا جو گمراہی کا مددگار بنا اور ظلم اختیار کیا عين المعارف كلها آتاه حِبُّ مُبتغى لا يُنبئن ببحره الذ ذَخَار كلبًا مولغا تمام معارف کا چشمہ خدا تعالیٰ نے قرآن کو دیا اور اس کے بحر ز خار سے اس کتے کو خبر نہیں دی جاتی جس کو تھوڑ اسا پانی پلایا جاتا ہے اقبل عيون علومه أو أعرضَنُ مُستولغا واتبع هداه أو اغصه إن كنتَ مُلْغَى مُتَغا اس کے علموں کے چشمے قبول کر یا بے حیا بیباک کی طرح کنارہ کر اور س کی ہدایت کا فرمان بردارہوجایا اگر تو تم خش گواور دین کوتباہ کرنے والا ہے تو نا فرمان بن جا ما غادر القرآنُ في الـ ميدان شابًا بُرزَغا قتل العِدا رعبًا وإن بارى العدوّ مُسبَّغا قرآن نے میدان میں کسی ایسے جوان کو نہ چھوڑا جو جوانی میں بھرا ہوا تھا دشمنوں کو اپنے رعب سے قتل کیا اگر چہ دشمن زرہ پہن کر آیا قد أنكروا جهلا وما بلغوه علمًا مبلغاً حتى انشوا كالخائبين وأضرموا نار الوغى مخالفوں نے جہل سے انکار کیا اور اس کے مقام بلند تک ان کا علم نہ پہنچ سکا یہاں تک کہ مقابلہ سے نومید ہو گئے اور جنگ کی آگ کو بھڑ کا یا