نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 163

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۶۳ نور الحق الحصة الاولى وأشهد الأحرار والأسارى، أنى أضع البركة والـلـعـنـة أمـام (١٣) اور میں آزادوں اور قیدیوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں آج برکت اور لعنت نصاری النصارى، أما البركة فينالهم بركة الدنيا عند مقابلة الكتاب وينالون | کے آگے رکھتا ہوں برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے کہ مقابلہ کے وقت ان کو حاصل ہو گی اور إنعاما كثيرًا مع الفتح والغلاب، أو ينالهم بركة الآخرة عند التوبة وہ بہت سا انعام مع فتح اور غلبہ کے پائیں گے یا برکت سے مراد آخرت کی برکت ہے کہ تو بہ وترک توهين القرآن وترك صفة السّرحان، وأما اللعنة فلا يرد اور ترک توہین قرآن ، ان کو ملے گی مگر لعنت ان پر صرف اس حالت عليهم إلا عند إعراضهم عن الجواب، ومع ذلك عدم امتناعهم عن میں وارد ہو گی کہ جب بالمقابل رساله نه بنا سکیں اور باوجود اس کے الشتم والسب والقدح فى كتاب رب الأرباب رب العالمين۔ ۔ قرآن شریف کی تو ہین اور تحقیر سے بھی باز نہ آ دیں ۔ واعلم أن كل من هو من ولد الحلال، وليس من ذرية البغايا اور جاننا چاہیئے کہ ہر یک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں ونسل الدجال، فيفعل أمرًا من أمرين إما كف اللسان بعد وترك اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس کے دروغگوئی الافتراء والمين، وإما تأليف الرسالة كرسالتنا وترصيع المقالة كمقالتنا | سے اور افترا باز آ جائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا ولكن الذى ما ازدجر من القدح في بلاغة القرآن، وما امتنع من الإنكار مگر وہ شخص کہ جس نے نہ تو ہمارے رسالہ جیسا رسالہ بنایا اور نہ قرآن کریم کی جرح قدح سے باز آیا من فصاحة الفرقان، فعليه كل ما قلنا وكتبنا في هذا القرطاس، وعليه | اور نہ فصاحت قرآنی پر حملہ بیچا کرنے سے اپنے تئیں روکا ہپس اس پر وہ سب باتیں وارد ہوں گی جو ہم اس رسالہ