نورالحق حصہ اوّل — Page 165
ܬܪܙ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى نور على نور هُدًى يومًا فيوما في الثغا من كان مُنكِر نوره قد جئتُه متفرّغا اس کی ہدایتیں نور علی نور ہیں اور دن بدن وہ نور زیادتی میں ہے اور جو شخص اس کے نو کا منکر ہے میں اسی کے لئے فارغ ہو کر آیا ہوں فيها العلوم جميعها وحليبها لمن ارتغا فيها المعارف كلّها وقليبُها بل أبلغا س میں تمام علم ہیں اوراسمیں علوم کا دودھ ہےاس کے لئے جواد پر کاحصہ کھارہا ہے اور اس میں تمام معارف اور ان کا کنواں بلکہ اس سے زیادہ ہے أعطى الورى بدلائه ماء معينًا سَيِّغَا أروى الخلائق كلّهم إلا لئيما أبدَعا اس نے اپنے بوکوں کے ساتھ خلقت کو پانی خوشگوار پلایا اور تمام خلقت کو سیراب کیا بجز اس کے جو ٹیم اور بدی سے آلودہ تھا من جاء ه متبختِرًا وأرى مُدَّى أو مِبزَغا | فتراه مغلوبًا على تُربِ الهوان ممرغا (۱۲۵) جو شخص اس کے آگے تکبر سے خراماں آیا اوراپنی کار دیں اور نشتر دکھلائے پس تو اس کو دیکھے گا کہ وہ مغلوب ہو گیا اور ذلت کی خاک پر لیٹا سيف يكسر ضرسَ مَن بارى وجاء مُتَغْشِعًا أسد يمزق صولُه إِن رَاغَ جملٌ أو رغا وہ ایک شہر ہے جو اس کا حملہ اس اونٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے جس وہ ایک تلوار ہے جو اس کے دانت توڑتی ہے جو اس کے مقابل پر آیا نے اس کی طرف منہ کیا یا آواز کی ويلٌ لِكَفَّارِ لَدِي غِ لا يفارق مَلدَغا ويل لمن برغتُ له شمس فعادى مَبْزَعًا اس کا فر مارگزیدہ پر واویلا ہے جو اس جگہ سے علیحدہ نہیں ہوتا جہاں سے کاٹا گیا اس شخص پر واویلا ہے جس کے لئے سورج چکا اور پھروہ مطلع الشمس سے دشمنی کرنے لگا مَن فرَّ من فيضانه ال أعلى ومما أفرغا ما كان قلبا تائبا بل كان لحمًا أَسْلَغا جو شخص اس کے فیضان سے اور فیضان شدہ باتوں سے بھاگا وہ رجوع کرنے والا دل نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا گوشت تھا جو گداز نہ ہوا وأما قول المعرض الفتان أن ذى مِرَّةٍ اسم الشيطان، وقال أن مگر معترض فتنہ انگیز کا یہ قول کہ ذی مرّة شیطان کا نام ہے اور جو اس نے کہا کہ المرة هي مادة الصفراء ، وباطل كل ما يخالفه من الآراء ، فهذا كله مره ماده صفرا کو کہتے ہیں اور اس کے برخلاف ہر ایک رائے باطل ہے پس یہ اس کا تمام كذب ودجل وتلبيس، ونعوذ بالله من الدجالين المفتنين۔ بل الأمر کذب اور دجل اور تلبیس ہے اور دجالوں اور فتنہ انگیزوں سے خدا کی پناه الصحيح الذي يوجد نظائره في كلمات بلغاء لسان العرب ونوابغ | صحیح جس کی نظیریں اہل زبان کے پلیٹوں اور فصیحوں کے کلمات میں پائی جاتی ہیں یہ ہے کہ بلکہ وہ امر