نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 155

۱۵۵ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى حَكَمًا لهذه القضية، ومخيَّرًا فى هذه الخطة، ولها أن تعطى إنعامنا كل کو اس مقدمہ کے فیصلہ کرنے کے حکم مقرر کرتے ہیں اور حکومت انگریزی کو اختیار ہوگا کہ ہمارا انعام اس کو دے دے جو من باري كلامنا وأرى بوفق شرطنا نثرًا كنثر ونظما كنظم في القدر مقابلہ کے وقت پورا اتر آوے اور اس کی شرط کے موافق نظم اور نثر بنا لیوے۔ نظم اپنے قدر اور بلاغت اور التزام حق والعدة والبلاغة والفصاحة والتزام الجد والحكمة، هذا عهد منا اور حکمت میں نظم کے مانند ہو اور نثر نثر کے مانند ہو اور خدا کی لعنت اُن پر جو عہد پورا نہ کریں۔ ولعنة الله على الناكثين۔ وللنصارى أن يتعاونوا لهذه المقابلة ويقوموا اور نصاریٰ کا اختیار ہو گا کہ اس مقابلہ میں ایک دوسرے کو مدد دیویں اور سب متفق ہو کر اس معرکہ کے لئے اٹھیں اور متفقين لتلك المعركة، ويكون بعضهم لبعض ظهيرا، وليستفسر | بعض بعض کے پشت پناہ بن جائیں اور ایک جاہل با خبر آدمی سے پوچھ لے اور دور و نزدیک سے ہر یک مددگار الجاهل خبيرا، وليطلبوا لأنفسهم كل نصير ومعين، وبعيد وقرين اور معین اپنے لئے بلا لیں اور مسیح سے بھی مدد لیں جو اُن کی نظر میں خدا ہے اور کوئی خدا نہیں بجز اس کے و مسيحهم الذى هو رب فى أعينهم ولا رَبَّ إِلا الله قيوم العالمين جو قیوم العالمین ہے اور چاہیئے کہ اپنے اس روح القدس سے بھی مدد لیں جو بولیاں سکھاتا تھا وليستمدوا من روحهم الذى كان يعلم الألسنة إن كانوا صادقين۔ اگر بچے ہیں۔ هذا ما رضينا عليه من طيب نفسنا وانشراح صدرنا، ورضينا یہ وہ بات ہے جس پر ہم اپنے دل کی خوشی اور انشراح صدر سے راضی ہو گئے اور ہم اس بات پر بالحكومة البريطانية أن تكون حَكَمًا بيننا وبينهم في م، فإن تجد هؤلاء الذين بھی راضی ہو گئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں حکم بن جائے پس اگر گورنمنٹ ان لوگوں کو اپنے يصولون على بلاغة القرآن وفصاحته، ويقولون إنا نحن المولويون قولوں میں صادق پاوے جو قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت پر حملہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمانوں کے