نورالحق حصہ اوّل — Page 122
۱۲۲ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ هذا الصفات وقريع هذه الصفات، بل نجدكم حريصين على الضر، ہم کو علم سکھایا گیا ہے اور صلح کاری کی تعلیم ہوئی ہے مگر ہم تم میں ایسا شخص نہیں پاتے جو اس تعلیم کے پتھر کوٹھوکنے والا وراغبين في إيصال الشر۔ تسبّون الأخيار، وتلعنون الأبرار، وتختالون اور ان صفتوں کا مالک ہو بلکہ ہم تو تم کو دکھ دینے پر حریص پاتے اور شرارت کرنے پر راغب دیکھتے ہیں تم نیکوں کو من الزهو، وتـنـصبـون إلى اللهو، وما تنصرتم إلا لتكونوا ذوى جُرُدٍ گالیاں دیتے اور راستبازوں پر لعنت بھیجتے ہو اور تمہارے ناز کی چال میں تکبر بھرا ہوا ہے اور لہو لعب کی طرف مربوطة وجدة مغبوطةٍ، ولتميسوا فى رياش وتتخلصوا من فكر گرے جاتے ہو اور عیسائی ہونے سے تمہاری یہی غرضیں ہیں کہ تمہارے طویلوں میں گھوڑے ہوں اور قابل معاش، وتجدوا ما تشتهى الأنفس وتتلذ الأعين، ولتتجنّوا قطوف رشک دولت مندی تم کو حاصل ہو اور لباس فاخرہ میں تم لٹکتے پھر واور معاش کی فکر سے فارغ ہو جاؤ اور تم کو وہ سب اللذات فارغين ووالله إن فسق النصارى قد عظم في الديار، وأخنوا چیزیں مل جائیں جن کو تمہارے نفس چاہتے ہیں اور جن سے تمہاری آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور تا کہ تم اپنی على الناس بأنواع التبار اتسخت أبدانهم من أوساخ الذنوب، فما لذتوں کے چنے ہوئے پھل فارغ بیٹھ کر کھاؤ۔ اور بخدا انصاری کا فسق ملکوں میں بڑھ گیا ہے اور قسم قسم کی ہلاکت مالوا إلى الذنوب، وبلغ أمرهم من كثرة الأدران إلى الحمام، فما میں لوگوں کو ڈال دیا ہے ان کے بدن گناہوں کی میل سے میلے ہو گئے مگر انہوں نے نہ چاہا کہ پانی کا بھرا ہوا ہو گا عجوا إلى الحمام، وصاروا بادى الجردة كالأنعام، فما آلوا إلى حلل ان کو ملے اور میلوں کی کثرت سے ان کی نوبت موت تک پہنچی پس انہوں نے حمام کی طرف رغبت نہ کی اور الإنعام، وأحبوا الذهب، والإيمانُ فرَّ ،وذهَب ، فأكبّوا على الدنيا خائنين۔ چار پاؤں کی طرح ننگے ہو گئے اور انعام کے لباس کی طرف توجہ نہ کی اور سونے سے پیار کیا اور ایمان بھاگ گیا سو و کذلک زادت منهم سموم الطغيان، وركدت ريح الإيمان، حتى دین سے نومید ہو کر دنیا پر گرے اور اسی طرح ان سے گمراہی کی زہریں پھیلیں اور ایمان کی ہوا تھم گئی یہاں تک کہ سهو والصحيح " " هذه" ۔ (الناشر)