نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 121

۱۲۱ نور الحق الحصة الاولى روحانی خزائن جلد ۸ فنهضتُ أنصحهم وكيف نصاحتى قومًا أوابـد مـعـجـبـيـن كضيطر پس میں گالیاں دینے والوں کو صحتکرنے کے لئے الٹا اور میرا نصیحت دینا ایک قوم کو یا مفید ہوتا تھا ایک اورخودہیں اور فرمایا او را در در کی طرح ہے قد غُودِرَ الإسلام من جهلاتهم وخلَتْ أمـاعز عن سحابِ ممطر عوام نادان نے ان کے باطل وساوس سے اسلام کو ترک کر دیا اور وہ پتھریلی زمین برسنے والے بادل سے محروم رہ گئی شاقت قلوب الناس ظُعُنُ حِيائهم فتـأبـطـوا بـرَحـاءَ هـــم بتخيرِ لوگوں کے دلوں کوان ہور نشینوں نے شوق دلایا جوان کی ہنڈیوں کے سرپوش کے اندر تھیں سو انہوں نے ان کی بلا کو دیدہ دانستہ بغل میں لے لیا زُجَـل عـمـون مـنـجـسو عرصاتِنا فَجَأَتْ طُـوائـحُـهـم كَذِتُبِ مُبكِرٍ اندھی جماعتیں ہیں جو ہمارے ملک کو پلید کر رہی ہیں ان کے حوادث ناگاہ ہم پر پڑے اور وہ ایسے آے جیسا کہ بھیڑ یا جہر کے وقت شکار کے لئے کھتا ہے والعين باكية وليس بكاؤنا شيئًا سوى الفضل المنير المسفر آنکھ تو رو رہی ہے مگر ہمارا رونا کچھ حقیقت نہیں بجز اس فضل کے جو روشن کرنے والا اور صبح کے وقت آنے والا ہے إن البلايا لا يرُدُّ رِكابها إلا يدا ملك قـــــديــر أكبر بلاؤں کے اونٹ سواروں کو کوئی رد نہیں کر سکتا مگر اس بادشاہ کے دونوں ہاتھ جو قدیر اور اکبر ہے إن المهيمن لا يُضيع عباده فَافُرَحُ ولا تحزنُ بوقتِ مُصْجِرٍ خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرے گا سو تو خوش ہو اور ایسے وقت میں جو دل کو تکلیف دینے والا ہے مگین مت ہو أيها المتنصّرون والعادون العمون لقد جئتم شيئًا إِذًا، وجُزتم | اے عیسائیو اور حد سے تجاوز کرنے والے اندھو تم ایک عجیب بات لائے اور یقیناً تم نے راہ راست کو چھوڑ دیا عن ا القصد جدا۔ تعبدون من مات وفات، وعظمتم العظام الرُّفات ، تم نے اس کو خدا پکڑا جو مر گیا اور گزر گیا اور بوسیدہ ہڈیوں کی تعظیم کی وغمصتم الصادقين۔ وفيكم من إذا كُلَّمَ كَلَّمَ، وإذا سُلَّمَ ثَلَّم۔ تقولون اور صادقوں کا تم نے عیب پکڑا اور تم میں ایسے شخص بھی ہیں کہ جب ہمکلام ہوں تو بدگوئی سے دلوں کو آزار إنا لقنا الحلم، وعُلّمنا السلم، ولكنا لا نجد فيكم قارع پہنچا دیں اور جب بدی کا جواب نہ دیا جاوے اور بے گزند رکھا جائے تو اور بھی رخنہ ڈالیں۔ اپنی زبان سے تو یہ کہتے ہو کہ