نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 114

۱۱۴ روحانی خزائن جلد ۸ نور الحق الحصة الاولى قوما آخرین۔ فسألوا عنه سرَّ هذا التخصيص وحكمة تحديد سکھاؤں گا ۔ پس انہوں نے اس تخصیص کا بھید اس سے دریافت کیا اور اس چمک کے محد ودر کھنے کی حکمت پوچھی هذا التبصيص، فأقسم بالأقنوم الذي يجير الجاني أنه ضاها في پس اس نے اس اقنوم کی قسم کھائی جو گناہ گار کو گناہ سے خلاصی بخشتا ہے کہ وہ اس عادت میں اقنوم ثانی سے مشابہ ہے۔ هذه العادة بالأقنوم الثاني، وجعلهم كالمسيح من المتفردين۔ ثم یعنے جیسے اقنوم ثانی نے حضرت عیسے سے پہلے کسی اور سے تعلق نہیں کیا نہ بعد میں کرے گا ایسا ہی اس نے اس قوم سے شمر ذيله ليطير كالعقاب، فغدا بإزعام الذهاب ولا اغتداء | یہ تعلق پیدا کیا اور کہا کہ میں نے اقنوم ثانی کی طرح ہو کر تمہیں مسیح کی طرح اپنے تعلق سے خاص کر دیا ہے پھر اس الغراب، وقال لهم عند الفرار يا سادات الأمصار وصناديد نے اپنا دامن اکٹھا کیا تا کہ عقاب کی طرح اڑ جائے پس اس نے چلے جانے کی نیت سے صبح کی ایسی صبح کہ بھی الديار، سآتيكم إلى نصف النهار، فانتظروني قليلا من الانتظار، ولا کوے نے بھی نہ کی ہو اور بھاگنے کے وقت ان کو کہنے لگا کہ اے شہروں کے سردار و اور ولائیتوں کے رئیسوں میں تأخذكم شيء من الاضطرار، فإن الرقية طويلة والبغية جليلة دو پہر تک تمہارے پاس آؤں گا سونم نے کچھ تھوڑی ہی میری انتظار کرنا اور تمہیں کچھ بے قراری نہ ہو کیونکہ منتر والطبيعة عليلة، والمسافة بعيدة، والبرودة شديدة، وما كنت أن أشق بہت لمبا ہے اور مطلب بہت بڑا ہے اور مراد بہت بڑی ہے اور طبیعت بیمار ہے اور دور جانا ہے اور سردی بہت على نفسي في هذا الضعف والنحافة، وما أجد في بدني قوة قطع پڑتی ہے اور میرا دل نہیں چاہتا کہ اس ضعف اور پیرانہ سالی میں یہ مشقت اپنے پر اٹھاؤں اور میرے بدن میں یہ المسافة، وإنى نبذت عُلق الدنيا كلها ، وتركت كُثرها وقُلها، وما قوت بھی نہیں کہ اتنی دور جاسکوں اور میں دنیا کے تمام علاقے چھوڑ بیٹھا ہوں اور مجھے بجز اس کے کچھ اچھا دکھائی يسرني إلا ذكر المسيح ربّ العالمين ( لعنة الله على الكاذبين) نہیں دیتا جو مسیح کا ذکر کرتا رہوں جو رب العالمین ہے۔