نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 113

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۱۳ نور الحق الحصة الاولى البادية، وكذلك عُلّمت من المعلّمين، فهل تأذنونني أن أفعل كذا، جاری ہو اور اسی طرح مجھے استادوں نے سکھلایا ہے۔ اب کیا آپ لوگ اجازت دیتے ہیں کہ میں ایسا ہی وأرجع إليكم بذهب كأمثال الرُّبَى، لترجعوا إلى شركائكم بمال ما کروں اور ٹیلوں کی طرح مال لے کر واپس آؤں تا تم وہ مال لے کر اپنے شریکوں کے پاس جاؤ رأته عـيــن الـنــاظــرين؟ وسترون قناطيرًا مقنطرة من الذهب الخالص جو کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہو اور عنقریب تم ڈھیروں کے ڈھیر سونا اور خوبصورت مال دیکھو گے والمال المليح، ولا ترون نظيره في التنجية إلا كفارة المسيح اور بجز کفارہ مسیح کے نجات دینے میں اس کی کوئی نظیر نہیں پاؤ گے تمہارے دین کے لئے تو کفارہ مسیح کافی ويكفى لدينكم الكفّارة ولدنياكم هذه الإمارة، فنجوتم في الدارين ہے اور تمہاری دنیا کے لئے امیری مکلفی ہے ہو تم دونوں جہانوں میں من تحريك اليدين ومن جهد الجاهدين قالوا الأمر إليك والقلب | محنت اور کوشش کرنے سے آزاد ہو گئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم تیرے حکم کے تابع ہیں اور لديك، وإنك اليوم لـديـنـا مـكـيـن أمين ۔ قال طوبى لكم ستفتح ہمارے دل تیرے پاس ہیں اور آج تو ہماری نظر میں با مرتبہ اور امین آدمی ہے۔ کہا شاباش عنقریب تم پر خوشی کے عليكم أبواب المسرّة وتُعطى لكم مفاتيح الدولة، بل أعلمكم رقيتي، کھلیں گے اور تمہیں دولت کی کنجیاں دی جائیں گی بلکہ میں تمہیں یہ منتر بھی دروازے لكي لا تضطربون عند غيبتي، ولكي تكون لكم دولة عظمى وملك لا سکھلا دوں گا تا میری عدم حاضری میں تمہیں کچھ تکلیف نہ پہنچے اور تا تمہیں ایک ایسی دولت ملے جو بہت بزرگ يبلى قالوا لا نستطيع إحصاء شكرك وإنك أكبر المحسنين۔ قال دولت ہے اور ایک ایسا ملک ملے جس کا انتہا نہیں انہوں نے کہا کہ ہم تیرا شکر نہیں کر سکتے تو سب احسان کرنے والوں جَيْر، ما علمتُ أحدًا هذا العمل من قبلكم، ولا أعلم بعدكم سے بزرگ تر ہے۔ اُس نے جواب دیا کہ تم یقیناً سمجھو کہ یہ عمل میں نے تم سے پہلے کسی کو نہیں سکھایا اور نہ بعد تمہارے کسی کو